خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کو جب خلافت ملی تو وہ حضرت خاجہ رسن کے مزار پر چالیس دن تک معتکف رہے اسی دوران انہوں نے پھولوں کی ایک بیل دیکھی‘ جو تازہ تازہ لگائی گئی تھی ‘وہ بیل چند دنوں میں بڑی ہو گئی‘ ایک دن جب دیکھا کہ پھول بھی لگ چکے ہیں تو دعا مانگی‘ رب کریم! اتنے دنوں میں تو ایک بیل پر بھی پھول لگ گئے میں تیری عبادت میں یہاں بیٹھا ہوں۔
اے اللہ! میرے اندر بھی تقویٰ کے پھول لگا دے‘ ان کی دعا ایسی قبول ہوئی کہ چالیس دن مکل کر کے جب نکلے تو راستے میں ایک مجذوب سے ملاقات ہوئی اس نے توجہ دی اور آپ کا معاملہ ہی کچھ اور بن گیا۔
ایک مجذوبہ تنور میں کود پڑی
خواجہ عبدالخالق غجدوانی امام مالک کی اولاد میں سے تھے اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے سرخیل بزرگ تھے ان کا گھر بخارا سے 81 کلومیٹر کے فاصلے پر غجداوان میں تھا‘ ایک مرتبہ کہیں جا رہے تھے کہ ایک مجذوبہ نے دیکھ لیا‘ اس کے جسم پر پورے کپڑے بھی نہ تھے‘ جیسے ہی انہیں دیکھا اسی وقت اس نے ایک تنور میں چھلانگ لگا دی‘ حالانکہ آگ جلنے کے بعد اس میں انگارے موجود تھے جب حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی چلے گئے تو وہ تنور سے باہر نکلی لوگوں نے پوچھا کہ ویسے تو تُو ننگی پھرتی رہتی ہے اور ان کو دیکھ کر تو نے تنور میں چھلانگ لگا دی وہ کہنے لگی‘ ہاں بڑی مدت کے بعد ایک مرد نظر آیا‘ مرد سے پردہ کرنے کا حکم ہے‘ ڈنگروں اور جانوروں سے تو پردہ کرنے کاحکم نہیں دیا گیا۔



















































