بائبل میں ایک واقعہ لکھا ہے قرآن پاک میں بھی اس کا مختصر ذکر ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت طالوت علیہ السلام وقت کے بادشاہ جالوت کے مقابلے کیلئے گئے‘ جالوت بڑا لحیم و شحیم اور طاقتور تھا‘ اس کی شکل و صورت ایسی تھی کہ دیکھنے سے ہیبت طاری ہو جاتی تھی‘ طالوت علیہ السلام ضعیف العمر تھے اور حضرت داؤد علیہ السلام جوان العمر تھے اور ماشاء اللہ اٹھتی جوانی تھی‘
جب دونوں حضرات نے جالوت کو دیکھا تو حضرت طالوت علیہ السلام نے فرمایا:
اسے مارنا تو بہت مشکل ہے کیونکہ یہ تو بہت بڑا ہے
ادھر حضرت داؤد علیہ السلا م فرمانے لگے
اسے مارنا تو بہت آسان ہے کیونکہ یہ تو بہت بڑا ہے‘ میرا نشانہ کبھی خطا نہ وہ گا اور ایسے ہی ہوا کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے پتھر جالوت کی پیشانی پر مارا اور ختم کر دیا‘ تو جو بھی آدمی مضبوط قوت ارادی سے کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی مدد کرتے ہیں۔



















































