حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں دو مسلمان کافروں کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے جب کافر لوگوں نے دیکھا تو انہوں نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ بجائے اس کہ آپ ان کو قتل کریں یا کوئی اور سزا دیں۔ آپ ان لوگوں کو اس طرح قائل کریں کہ یہ آپ کے دین کو اختیار کر لیں کیونکہ ان کے چہروں سے ایسی بہادری ٹپکتی ہے کہ آپ کی فوج کے سپہ سالار بن سکتے ہیں۔
چنانچہ انہوں نے کوشش کی کہ ہم کسی طرح ان کو اپنے دین کی طرف مائل کر لیں۔ پہلے انہوں نے ان کو لالچ دیئے لیکن جب دیکھا کہ دال نہیں گلتی تو پھر نہیں ڈرایا دھمکایا‘ حتیٰ کہ انہیں یہ کہا گیا کہ ہم تمہیں موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ بہت یہ ہے کہ تم ہمارے دین کو قبول کر لو لیکن ان کا جواب یہی تھا۔ ’’تو جو کر سکتا ہے تو اپنا زور لگا لے‘ تو کیا کرے گا‘ یہی ہو گا کہ تیرے اس تکلیف دینے سے ہمیں موت آ جائے گی (طہ 173)‘‘۔ جب ان کی طرف سے یہ جواب سنا تو وہ سٹپٹا اٹھے اور پریشان ہوئے کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیاجائے گا۔ بالآخر زچ ہو کر انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ ہم ایک جگہ تیل گرم کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کو اس میں ڈالتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ سے دوسرا ڈر جائے اور ہمارے دین کو قبول کر لے۔ چلو دونوں نہیں تو ان میں ایک تو ہاتھ آ ہی جائے گا۔ چنانچہ تیل گرم کیا گیا اور ان دونوں کو اس کے پاس بٹھا کر ڈرایا گیا کہ اگر تم ہماری بات کو قبول نہیں کرتے تو تمہیں اس تیل کے اندر ڈال دیا جائے گا۔ جب دیکھا کہ وہ اپنی بات پر جمے ہوئے ہیں تو انہوں نے ان میں سے ایک کو اٹھا کر گرم گرم تیل میں ڈال دیا۔ ذرا تصور کیجئے کہ جب تیل گرم ہو اور اس میں گوشت ڈالا جائے تو پھر کس طرح کباب بنتا ہے اور کیا نقشہ سامنے آتا ہے۔ ان میں سے جب ایک اس طرح کباب بن گیا تو لوگوں نے دوسرے کے چہرے کے تاثرات دیکھے اور کہا کہ اگر تم ہماری بات مان لو گے تو ہم تمہیں کچھ بھی نہیں کہیں گے۔ چلو پہلے کے ساتھ تو جو کچھ پیش آیا وہ تو ہو گیا اب اگر تم ہماری بات مان لو تو ہم تمہیں تیل میں نہیں ڈالیں گے اس پر انہوں نے بادشاہ کو جواب دیا کہ شاید تو سمجھتا ہے کہ میں اس بات سے ڈر رہا ہوں کہ جیسے تو نے اس کو تیل میں ڈالا ہے اسی طرح تو مجھے بھی تیل میں ڈال دے گا ہرگز ایسا نہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ مجھے یہ خیال آ رہا ہے کہ میری یہ ایک ہی جان ہے کاش! میرے جسم کے بالوں کے برابر میری جانیں ہوتیں تو مجھے اتنی دفعہ تیل میں ڈالتا اور میں اتنی جانوں کا نذرانہ اپنے رب کے حضور میں پیش کرتا۔ سبحان اللہ



















































