فرعون کے محل میں مشاطہ نامی ایک عورت فرعون کی بیٹیوں کے بال سنوارا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ وہ فرعون کی بیٹی کے بال سنوار رہی تھی‘ اسی دوران اس کے ہاتھ سے کنگھی نیچے گر گئی۔ جب وہ کنگھی اٹھانے لگی تو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پروردگار کا نام لیا۔ جب مشاطہ نے اللہ رب العزت کا نام لیا تو فرعون کی بیٹی سمجھ گئی کہ یہ تو میرے والد کو معبود نہیں مانتی بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اللہ پر ایمان رکھتی ہے۔
چنانچہ اس لڑکی نے مشاطہ سے پوچھا‘ کیا تم میرے والد کو الہ نہیں مانتی؟ اس نے کہا ہرگز نہیں‘ میرا خدا تو وہ ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پروردگار ہے۔ جب لڑکی نے مشاطہ کا دو ٹوک جواب سنا تو وہ بھاگ کر اپنے باپ کے پاس گئی اور کہنے لگی کہ آپ کے محل میں آپ کے زیرسایہ رہنے والی عورت آپ کو خدا نہیں مانتی۔ بیٹی کی باتیں سن کر فرعون غصہ میں آ گیا۔ چنانچہ وہ کہنے لگا کہ اچھا میں دربار میں جا کر اس عورت کو ایسی عبرتناک سزا دیتا ہوں کہ یا تو وہ موسیٰ علیہ السلام کے الٰہ کو الہٰ کہنے سے باز آ جائے گا یا پھر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔ فرعون جب اپنے دربار میں پہنچا تو اس نے اس عورت کو اپنے پاس بلوایا اور کہا تم موسیٰ علیہ السلام کے الٰہ کو الٰہ کہنا چھوڑ دیا‘ وہ کہنے لگی اب تم جو کچھ کر سکتے ہو کر لو‘ میں پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ اس کا یہ دلیرانہ جواب سن کر فرعون نے کہا اس کو زمین پر لٹا دیا جائے۔ اس کے دونوں ہاتھوں اور پاؤں میں کیلیں گاڑھ دی گئیں تاکہ وہ حرکت نہ کر سکے۔ اسی دوران وزیر آیا اور اس نے فرعون سے کہا کہ اس کی ایک دودھ پیتی چھوٹی سی بچی بھی ہے اگر اس کی بیٹی کو اس کے سامنے قتل کر دو تو یہ اپنی ممتا سے مجبور ہو کر آپ کی بات مان جائے گی۔ چنانچہ فرعون نے اس کی دودھ پیتی بچی کو گھر سے بلوایا اور اسے اس کے سینے پر لٹا دیا۔ وہ بچی ماں کے سینے سے لگ کر دودھ پینے لگ گئی۔ بچی ابھی دودھ پی ہی رہی تھی۔ فرعون نے کہا کہ میں تمہاری اس بچی کو تمہارے ہی سینے پر قتل کر دوں گا۔ وہ اتنی بڑی دھمکی سن کر بھی کہنے لگی کہ اب میرے دل میں اتنا اطمینان بھر چکا ہے کہ میں اپنی آنکھوں سے بیٹی کو خون میں لت پت تڑپتا تو دیکھ سکتی ہوں مگر میں اپنے ایمان کا خون نہیں کر سکتی۔ چنانچہ مشاطہ کے سینے پر ہی اس کی معصوم بچی کی گردن کاٹ دی گئی۔ جب بیٹی ٹھنڈی ہو گئی تو فرعون نے کہا کہ اب ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔ اس نے کہا تمہاری جو مرضی ہو کر لو۔ میں پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ بالآخر اس عورت کو بھی شہید کر دیا گیا۔



















































