ایک مرتبہ حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ جا رہے تھے۔ دوپہر کا وقت تھا انہیں نیند آئی۔ وہ قیلولہ کی نیت سے ایک درخت کے نیچے سو گئے۔ کچھ دیر لیٹنے کے بعد جب ان کی آنکھ کھلی تو انہیں ایک آواز سنائی دی۔ انہوں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ اس درخت میں سے آواز آ رہی تھی جس کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔ درخت انہیں کہہ رہا تھا۔ اے سری! تو میرے جیسا ہو جا۔ وہ یہ آواز سن کر بڑے حیران ہوئے
جب پتہ چلا کہ یہ آواز درخت سے آرہی ہے تو اس درخت سے پوچھا کہ اے درخت! میں تیرے جیسا کیسے بن سکتا ہوں؟ درخت نے جواب دیا۔ اے سری! جو لوگ مجھ پر پتھر پھینکتے ہیں میں ان لوگوں کی طرف اپنے پھل لوٹاتا ہوں۔ اس لئے تو بھی میرے جیسا بن جا۔ وہ اس کی یہ بات سن کر اور بھی زیادہ حیران ہوئے مگر اللہ والوں کو فراست ملی ہوتی ہے ان کے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ اگر یہ درخت اتنا ہی اچھا ہے تو اللہ رب العزت نے درخت کی لکڑی کو آگ کی غذا کیوں بنایا؟ انہوں نے پوچھا اگر تو اتنا ہی اچھا ہے تو یہ بتا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے آگ کی غذا کیوں بنایا؟ اس پر درخت نے جواب دیا‘ اے سری! میرے اندر خوبی بھی بہت بڑی ہے مگر اس کے ساتھ ایک خامی بھی بہت بڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو میری وہ خامی اتنی ناپسند ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آگ کی غذا بنا دیا۔ میری خامی یہ ہے کہ جدھر کی ہوا چلتی ہے میں ادھر کو ہی ڈول جاتا ہوں یعنی میرے اندر استقامت نہیں ہے۔



















































