اگر ایک مجاہد کسی گھوڑے کو اس لئے پالتا ہے کہ میں اس پر بیٹھ کر جہاد کروں گا تو وہ گھوڑا پہچانتا ہے کہ مجھے اس لئے کھلایا پلایا گیا تھا کہ میں نے جہاد میں شریک ہونا ہے‘ لہٰذا جب اس کا مالک زرہ پہن کر اس پر سوار ہو جاتا ہے اور تلوار ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اسے دشمن کے سامنے لا کر کھڑا کرتا ہے تو وہ گھوڑا اگرچہ جانور ہے مگر اس میں اتنی فہم ضرور ہوتی ہے کہ اب اس وعدے کو پورا کرنے کا وقت آ چکا ہے جس کیلئے میرے مالک نے میری خدمت کی تھی‘
چنانچہ گھوڑا تیار ہو جاتا ہے اس کو اپنے سامنے تلواریں اور تیر نظر آ رہے ہوتے ہیں مگر وہ گھوڑا گھبراتا نہیں ہے لہٰذا جب اس کا مالک اسے بھاگنے کیلئے ایڑی کا اشارہ کرتا ہے تو وہ گھوڑا بھاگنا شروع کر دیتا ہے وہ بڑھتا چلا جاتا ہے سامنے دشمن تیر برساتا ہے مگر تیر و تفنگ اور دشمن کے وار سے اس کے جسم سے خون کے فوارے بھی چھوٹ رہے ہوں تو وہ اس بات کی پرواہ کئے بغیر دشمن کی صفوں میں گھستا چلا جاتا ہے وہ اپنی جان تو قربان کر دیتا ہے مگر وہ اپنے مالک کے اشارے کی لاج رکھ لیتا ہے‘ اللہ رب العزت نے گھوڑے کی اس استقامت کی اپنے قرآن میں قسمیں کھائی ہیں چنانچہ فرمایا: ’’والعدیت ضبحاً فالموریت قدحاً فالمغیرت صبحاً‘‘۔ ’’سبحان اللہ اے مجاہد! تیری عظمت کو سلام کہ تیرے گھوڑوں کے قدموں سے اٹھنے والی مٹی کی بھی میرا پروردگار قسمیں کھا رہا ہے جس پروردگار کو گھوڑے کی جواں مردی اور شجاعت اس قدر پسند آئی کہ وہ قسمیں کھا کر قرآن میں اس تذکرے فرماتے ہیں تو جب مومن شجاعت کا اظہار کریں گے تو اللہ رب العزت کو یہ بات کتنی پسند آئے گی۔



















































