حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے ایک واقعہ سنایا کہ بیرون ملک ایک صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کو کل سترہ احادیث یاد تھی‘ تو کیا اس کے باوجود آپ لوگ اپنے آپ کو حنفی کہتے ہیں؟ عاجز نے جواب دیا کہ آپ کی بہت سے پہلے تو ہو سکتا ہے کہ عاجز سو فیصد حنفی ہو لیکن اب آپ کی بات سن کر ایک سو ایک فیصد حنفی ہو گیا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ یہ کیسے؟
میں نے کہا کہ یہ بات تو پکی ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کی سربراہی میں چھ لاکھ مسائل کا استنباط کیا گیا تو جو شخص سترہ احادیث سے چھ لاکھ مسائل کا استنباط کرے‘ عاجز اسے اپنا امام نہ مانے تو کیا کرے‘ جو بندہ سترہ احادیث سے چھ لاکھ مسائل نکال لے عاجز تو اس کی عظمت کو سلام کرتا ہے‘ عاجز تو اپنی عقل کو ان کے قدموں میں ڈالتا ہے پھر ان کی عقل ٹھکانے آئی‘ کہنے لگے اب بات سمجھ میں آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امام اعظم رحمتہ اللہ کو وہ مرتبہ دیا تھا جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ تفسیر قرآن کے بارے میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ کتاب کے وہی معانی قبول ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے فرمائے ہیں ان کو سمجھنے کیلئے علماء کے پاس جانا پڑے گا اور ان کی صحبت میں بیٹھ کر سیکھنا پڑے گا‘ فقط کتاب پڑھ کر ہم نہیں سمجھ سکتے‘ ہر بندے کی سمجھ اور دانش مختلف ہوتی ہے جو سمجھ ہمارے اکابر کو حاصل تھی وہ ہمیں تو حاصل نہیں ہے اس لئے ہمیں اپنے اکابر کے ساتھ نتھی رہنا چاہئے اسی میں بھلائی ہے جیسا کہ حدیث نبویﷺ ہے ’’تمہارے اکابر کے ساتھ رہنے میں برکت ہے‘‘۔



















































