امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ ایک مرتبہ کسی حجام کے پاس بال کٹوانے کیلئے گئے اس نے دیکھا کہ آپ نے میلے سے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اسی دوران کوئی خوش لباس دینا دار سا بندہ اس کے پاس بال کٹوانے آیا حجام کو توقع تھی کہ ادھر سے زیادہ پیسے ملیں گے‘ چنانچہ اس نے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے بال کاٹنے سے انکار کر دیا‘ کہ میں تو پہلے اس کے بال کاٹوں گا آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے غلام سے پوچھا‘ بتاؤ تمہارے پاس کچھ پیسے ہیں؟
عرض کیا‘ جی سو دینار ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا‘ یہ پیسے اس کو ویسے ہی دے دو‘ حالانکہ بال کٹوانے کیلئے ایک یا دو دینار لگتے ہوں گے‘ جب آپ نے ویسے ہی سو دینار دیئے اور بال بھی نہ کٹوائے تو وہ بڑا حیران ہوا اور کہنے لگا میں تو سمجھا تھا کہ آپ کے اوپر فقط گدڑی ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ گدڑی میں لعل چھپا ہوا تھا اور فرمایا ترجمہ ’’میرے اوپر ایسے کپڑے ہیں کہ اگر ان تمام کپڑوں کو پیسوں کے عوض بیچ دیا جائے تو ایک درہم بھی ان کپڑوں کی قیمت سے زیادہ ہو جائے مگر ان کپڑوں میں ایک ایسی جان ہے کہ اگر تم ساری دنیا میں ڈھونڈ کر دیکھو تو تمہیں اس وقت ایسی جان نظر نہیں آئے گی‘‘۔ عرض کیا‘ جی سو دینار ہیں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا‘ یہ پیسے اس کو ویسے ہی دے دو‘ حالانکہ بال کٹوانے کیلئے ایک یا دو دینار لگتے ہوں گے‘ جب آپ نے ویسے ہی سو دینار دیئے اور بال بھی نہ کٹوائے تو وہ بڑا حیران ہوا اور کہنے لگا میں تو سمجھا تھا کہ آپ کے اوپر فقط گدڑی ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ گدڑی میں لعل چھپا ہوا تھا اور فرمایا ترجمہ ’’میرے اوپر ایسے کپڑے ہیں کہ اگر ان تمام کپڑوں کو پیسوں کے عوض بیچ دیا جائے تو ایک درہم بھی ان کپڑوں کی قیمت سے زیادہ ہو جائے مگر ان کپڑوں میں ایک ایسی جان ہے کہ اگر تم ساری دنیا میں ڈھونڈ کر دیکھو تو تمہیں اس وقت ایسی جان نظر نہیں آئے گی‘‘۔



















































