حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی اپنے تعلیی دور کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ علم کے بارے میں جتنی اہمیت رسول اللہﷺ نے بتلائی ہے یقین جانئے اتنی اہمیت کسی اور نے نہیں بتائی۔ ہم ایک دفعہ کورس کر رہے تھے اس کا موضوع تھا ’’ایفیکٹو منیجر ‘‘اور انگلینڈ کے مسٹر بروڈی اس کورس کے ٹیچر تھے جو ایک ہی وقت میں کئی یونیورسٹیز میں وزیٹنگ پروفیسر تھے‘ کیلی فورنیا کی یونیورسٹی‘ انگلینڈ کی یونیورسٹی‘ جرمنی کی یونیورسٹی اور ہالینڈ کی یونیورسٹی۔
اتنا قابل اور ماہر بندہ ہمیں لیکچر دے رہا تھا‘ لیکچر کے دوران انہوں نے علم کے بارے میں بات کی اور بات کرتے کرتے کہنے لگے کہ ہمارے سائنسدانوں نے آج یہ بات محسوس کی ہے کہ آدمی کو صرف طالب علمی میں ہی نہیں پڑھنا پڑتا بلکہ اپنے پروفیشن میں بھی آ کر پڑھنا پڑتا ہے‘ گویا ساری زندگی پڑھنا پڑتا ہے اس نے یہ بات بڑے نخرے سے کی جیسے کوئی بڑی ریسرچ والی بات کی ہو۔ جب اس نے یہ بات کی تو میں کھڑا ہوا میں نے کہا میں تمہیں اپنے آقا رسول اللہﷺ کی ایک حدیث سنا دوں؟ اس نے کہا کہ ضرور سناؤ‘ میں نے یہ حدیث سنائی کہ ’’علم حاصل کرو پنگھوڑے سے لے کر قبرمیں جانے تک‘‘ جب میں نے یہ حدیث سنائی یقین کیجئے کہ اس نے لیکچر موقوف کیا اپنا بریف کیس کھولا اپنی ڈائری نکالی مجھے کہتا ہے کہ آپ یہ حدیث مجھے لکھوا دیں۔ میں آئندہ اپنے لیکچرز میں یہ حدیث پڑھ کر لوگوں کو سنایا کروں گا کہ چودہ سو سال پہلے مسلمانوں کے نبیﷺ نے اتنی اہمیت بتلائی۔ حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی اپنے تعلیی دور کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ علم کے بارے میں جتنی اہمیت رسول اللہﷺ نے بتلائی ہے یقین جانئے اتنی اہمیت کسی اور نے نہیں بتائی۔ ہم ایک دفعہ کورس کر رہے تھے اس کا موضوع تھا ’’ایفیکٹو منیجر ‘‘اور انگلینڈ کے مسٹر بروڈی اس کورس کے ٹیچر تھے جو ایک ہی وقت میں کئی یونیورسٹیز میں وزیٹنگ پروفیسر تھے‘ کیلی فورنیا کی یونیورسٹی‘ انگلینڈ کی یونیورسٹی‘ جرمنی کی یونیورسٹی اور ہالینڈ کی یونیورسٹی۔



















































