پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

’’ لال حویلی لینی ہے تو یہ ایک کام کرو ‘‘ شیخ رشید نے وزیر اعظم نواز شریف کو کیا پیغام بھجوا دیا ؟

datetime 29  جنوری‬‮  2017 |

ساہیوال (مانیٹرنگ ڈیسک) سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید نے کہا ہے کہ پاناما کیس پاکستان کی زندگی اور موت کی جنگ ہے، کرپٹ نواز شریف ڈیوس میں تقریر کرنے کا حق دار نہیں تھا اسی لیے کسی نہیں وہاں گھاس نہیں ڈالی تو واپس آکر سارا غصہ راحیل شریف پر نکالا۔وہ ساہیوال میں تحریک انصاف کے جسلہ عام سے خطاب کر رہے تھے

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کوڈیووس میں برف اورپہاڑ دیکھنےکابہت شوق ہے اسی لیے گئے تھے ورنہ وہاں کسی بڑے لیڈر نے نوازشریف کوگھاس نہیں ڈالی جب کہ راحیل شریف کے خطاب کو سب نے توجہ سے سنا۔انہوں نے کہا کہ ڈیووس میں اُٹھانے والے ہزیمت پر نواز شریف نے واپس آکر سارا غصہ راحیل شریف پر نکالا اور انکی کردار کشی کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھول گئے کہ پوری قوم اس شریف کے ساتھ ہے جس کا نام راحیل ہےشیخ رشید نے کہا کہ لال حویلی مفت کا مال نہیں‌ جو مجھ سے چھین لی جائے گی یہ ہمارے خاندان کی وراثت ہے اور کوئی مائی کا لال مجھ سے نہیں چھین سکتا نواز شریف میری لاش سے گذر کر ہی لال حویلی چھین سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کوئلےکابوسیدہ پلانٹ لگاناچاہتے ہیں جب کہ کوئلےکابوسیدہ پلانٹ لگنےسے معذور بچے پیداہونگے لیکن کمیشن کے پجاریوں کو اس کی پرواہ نہیں کیوں کہ جب نوازشریف کے لیےاسپتال یا تعلیمی ادارے تباہ ہونا مسئلہ نہیں تو یہ کون سی بڑی بات ہے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ جس دن نوازشریف نے سچ بولا وہ ان کی سیاست کا آخری دن ہوگا نوازشریف پکڑے جائیں توالثانی گروپ مدد کو پہنچتا ہے سمجھ نہیں آتا کہ ہر بار نوازشریف کو بچانےکے لیےالثانی گروپ ہی کیوں آتاہے؟ اتنے خط تو شہزادہ سلیم نے انار کلی کو نہیں لکھے جتنے قطری شہزادے نے شریف خاندان کو لکھے ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ مودی ہماراپانی، اور ٹرمپ ہمارے ویزے بند کر رہا ہے لیکن ہمارے حکمراں سو رہے ہیں اور مودی کو تحائف بھیجے جا رہے ہیں اور کاروباری سنگت نبھائی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…