ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

سعودی عرب اب اپنے سرکاری اداروں کے ساتھ کیا کرنے والا ہے؟حیرت انگیز اعلان کردیاگیا

datetime 20  جنوری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ڈیووس(آئی این پی)سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے کہا ہے کہ مملکت کے وژن 2030 کے مقاصد واہداف کے حصول میں سرکاری شعبوں میں سرمایہ کاری اور ان کی نج کاری ترجیحی عوامل ہیں، مملکت کی اقتصادی ترقی میں نوجوان آبادی اور خواتین کو نمایاں اہمیت حاصل ہے،ترقی کے عمل میں ان کی شمولیت کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔وہ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں سعودی عرب کے اصلاحات کے پروگرام پر ہونے والے پینل میں گفتگو کررہے تھے۔

اس پینل کے میزبان عالمی اقتصادی فورم کے مینجنگ ڈائریکٹر فلپ روسلر تھے۔اس میں وزیر توانائی کے علاوہ سعودی عرب کے وزیرخزانہ اور تجارت نے اظہار خیال کیا۔بلیک راک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر لارنس ڈی فنک اور ڈا کیمیکل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو این لیوریس نے بھی سعودی معیشت کے مختلف پہلوں کے بارے میں گفتگو کی ہے۔سعودی عرب کے تینوں وزر نے معیشت کو حکومت کے کنٹرول سے آزاد کرنے اور اس کو منڈی کی ضروریات کے مطابق بنانے کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔وزیر توانائی خالد الفالح نے سعودی معیشت اور وژن 2030 کے نمایاں خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کے نتیجے میں ایک مختلف سعودی عرب ظہور پذیر ہوگا اور برسرزمین تو یہ عمل پہلے ہی رونما ہورہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کو ایک شائستہ اور نرم جگہ بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔اس مقصد کے حصول کے لیے رواداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔وزیر خزانہ محمد الجدعان نے پینل میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے اپنے معاملات میں زیادہ قابل احتساب اور شفاف ہونے کا عزم کررکھا ہے۔وہ اپنے بہت سے سیکٹرز کو نجی شعبے کے حوالہ کررہا ہے اور ان میں تنوع لا رہا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ہماری قیادت کی جانب سے تمام وزارتوں کو اپنے اہداف کے حصول کے عمل میں شفافیت اور احتساب اور افسر شاہی کو محدود کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ڈا کیمیکل کے سی ای او اینڈریو این لیوریس نے اس موقع پر کہا کہ وہ گذشتہ پندرہ سال سے سعودی عرب جارہے ہیں لیکن اس دوران میں ان کے لیے شفافیت کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہی ہے۔انھوں نے کہا:میں اس امر کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ اگر ہم امریکا میں اپنے تجربے کا سعودی عرب سے موازنہ کریں تو سعودی مملکت میں مکمل شفافیت ہے۔یہ اس سے بھی واضح ہے کہ ہمارے اس ملک سے اربوں ڈالرز کے سودے ہوتے ہیں۔سعودی وزر کا کہنا تھا کہ وژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے نجی شعبے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت سے انفرا اسٹرکچر ، صحت عامہ اور تعلیم کے شعبوں میں متعدد منصوبے شروع کیے جائیں گے اور ان کا مستقبل قریب میں اعلان کردیا جائے گا۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…