پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

باب کعبہ سے متصل سنگ مرمر کے 8 ٹکڑوں کی کہانی،ان کی تاریخی حیثیت کیاہے ؟جان کرآپ سبحان اللہ کہہ اٹھیں گے

datetime 5  اکتوبر‬‮  2017 |

مکہ مکرمہ (مانیٹرنگ ڈیسک)باب کعبہ کی دائیں جانب الشاذروان پر سنگ مرمر کے8 مختلف جسامت کے ٹکڑے کیوں نصب ہیں۔ اس بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں مگر بھورے زردی مائل یہ سنگ مرمر دنیا میں ’میری اسٹون‘ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ٹکڑے باب کعبہ کے پہلو میں 807 سال سے نصب ہیں۔حرمین شریفین کے امور کےمحقق محیی الدین الھاشمی نےایک معروف نیوزویب سائیٹ سے گفتگوکرتے ہوئےسنگ مرمر کے ان منفرد ٹکڑوں کی تاریخ پربات کی۔

انہوں نے بتایا کہ سنگ مرمر کے یہ آٹھ ٹکڑے عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے مسجد حرام کے لیے ہدیہ کیے تھے۔ انہوں نے یہ پتھرصحن مطاف کی مرمت کے وقت 631ھ میں دیے۔ سنگ مرمر کے نیلے رنگ کے پتھر پر اس کی تاریخ درج ہے۔الھاشمی نے کہا کہ باب کعبہ سے متصل ان سنگ مرمر کے ٹکڑوں پر شاندار نقش ونگار اور پھول بوٹے بنائے گئے ہیں۔ حجم میں یہ ٹکڑے برابر نہیں بلکہ الگ الگ جسامت کے ہیں۔ ان میں سے بڑا ٹکڑا 33 سینٹی میٹر لمبا اور 21 سینٹی میٹر چوڑا ہے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ سنگ مرمر کے یہ 8 ٹکڑے باب کعبہ کے قریب المعجن کے مقام پر نصب ہیں۔ صحن مطاف میں یہ جگہ نیچے کی سمت میں ہے۔تاریخی روایات کے مطابق یہاں پر جبریل علیہ السلام نے بعث نبوی کے بعد پہلی بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز سکھائی تھی۔معجن سفید رنگ کی ریت سے تیارکی گئی ہے اور اس کے نیچے یہ آٹھ ٹکڑے نصب ہیں۔ سنہ 1213ھ سے 1377ھ تک یہ پتھر چوری ہوگئے تھے۔ معجن کی جگہ چونکہ کافی تنگ ہے اور وہاں پر ایک وقت میں صرف ایک ہی شخص کھڑا ہوکر نماز پڑ سکتا ہے۔ اس لیے وہاں سے یہ پتھر ہٹا کر شاذروان میں باب کعبہ کے پہلو میں لگا دیے گئے تھے۔
a86e72e8-ea34-4208-bd34-c2549cbe0d6e_4x3_690x515

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…