ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

اہم سینیٹر اورمولانافضل الرحمان پر الزامات ٹی وی چینلز کو بھاری پڑ گئے

datetime 16  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی )پیمرا کونسل آف کمپلینٹ سندھ نے نجی ٹی وی چینل ’میٹرو 1‘کے خلاف سینیٹر سعید غنی کی طرف سے دائر شکایت کی سماعت کرتے ہوئے ٹی وی چینل پر دس لاکھ روپے جرمانہ کی سفارش کی ہے ۔ کونسل آف کمپلینٹ نے یہ سفارش پیر کے روز 40ویں اجلاس کے دوران کی۔ پروفیسر انعام باری چیئرمین کونسل آف کمپلینٹ سندھ نے اجلاس کی صدارت کی۔ کونسل نے یہ سفارش بھی کی کہ چینل کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ بے بنیاد الزامات عائد کرنے پر معزز رکن سینیٹ سے اپنی نشریات کے دوران معذرت کرے اور اس حوالے سے ٹکرز بھی چلائے۔

سینیٹر سعید غنی ایک اور معزز رکن پارلیمنٹ سینیٹر روبینہ خالداور اپنے وکلا کی ٹیم کے ہمراہ خود پر لگائے گئے الزامات کا سامنا کرنے کونسل آف کمپلینٹ کے روبرو پیش ہوئے۔ میٹرو 1ٹی وی کی طرف سے چینل کے بیورو چیف حبیب الرحمان اور چیف رپورٹر بابر شہزاد تُرک پیش ہوئے۔ سینیٹر سعید غنی نے چینل کے نمائندگان سے ثبوت پیش کرنے کو کہا تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکیں تاہم چینل کے نمائندگان ایسی کوئی شہادت پیش نہیں کر سکے۔ پیمرا کونسل آف کمپلینٹ نے دونوں اطراف کے بیانات سننے کے بعد چینل کے خلاف جرمانہ کی سفارش کی اور خبردار کیا کہ اگر اس کی جانب سے مستقبل میں اس طرح کی کردار کشی کی مہم جاری رہی تو پیمرا آرڈی ننس 2002کی سیکشن 30کے تحت اس کے لائسنس معطل کرنے کی کاروائی شروع کی جاسکتی ہے۔ پیمرا کونسل آف کمپلینٹ نے لبیک پرائیویٹ، (بول ٹی وی ) کے پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی مولانا فضل الرحمان کے بارے کردار کشی پر مبنی الزامات نشر کرنے کی سماعت بھی کی۔ جے یو آئی ایف کی رکن قومی اسمبلی شاھدہ اختر کونسل آف کمپلینٹ کے روبرو پیش ہوئیں۔

انہوں نے کونسل سے شکایت کی کہ مورخہ 21نومبر 2016کو مذکورہ پروگرام میں اینکر پرسن عامر لیاقت حسین نے ان کے قائد کی کردار کشی کی اور بے بنیاد، جھوٹے الزامات عائد کیے انہوں نے پیمرا شکایات کونسل سے مذکورہ ٹی وی چینل اور اینکر پرسن کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ بھی کیا تاہم بول ٹی وی کے وکیل کی طرف سے مہلت طلب کرنے پر مزید کاروائی دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…