پیر‬‮ ، 27 جولائی‬‮ 2026 

ضیا ء اللہ آفریدی کوالزامات لگانا مہنگا پڑ گیا،مشتاق غنی کا پلٹ کر وار

datetime 14  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات مشتاق غنی نے کہا ہے کہ ضیا ء اللہ آفریدی صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیں پھر الزامات لگائیں ، جس پارٹی کے نشان پر انہوں نے انتخاب جیتا اسی کے سربراہ پر الزامات لگاتے ہوئے انہیں شرم آنی چاہیے ، پاکستان تو دور کی بات پورے خطے میں خیبرپختونخوا احتساب کمیشن جیسے شفاف ادارے کی مثال نہیں ملتی ، وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت ہے تو الزامات کی بجائے احتساب کمیشن یا نیب میں پیش کیا جائے ۔ وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان جیسے بڑے لیڈر کو کوئی بے وقوف نہیں بنا سکتا ، ضیا ء اللہ آفریدی کے الزامات پر افسوس ہوا، عمران خان کی ہر بات پر نظر ہے ، ضیاء اللہ آفریدی کو اگر احتساب کمیشن کے کسی کمشنر پر اعتراض ہے کہ وہ کرپٹ ہیں تو عدالتیں موجود ہیں ، وہ عدالت جائیں ، ثبوت دیں اور اس کی کرپشن کو ثابت کریں ، ابھی ضیاء اللہ آفریدی پر خود کیس ہے انہیں عمران خان سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے خود ان سے الزامات پر معافی مانگنی چاہیے ۔ مشتاق غنی نے کہا کہ ضیا ء اللہ آفریدی کو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفیٰ ہوکر عوام کی عدالت میں جانا چاہیے ،انہوں نے جس پارٹی کے نشان پر الیکشن جیتا اس کے سربراہ کے خلاف الزامات لگا رہے ہیں ۔

مشتاق غنی نے کہا کہ صوبائی احتساب کمیشن کو ڈیڑھ سال کام کرنے کا موقع ملا اتنے عرصے میں انہوں نے گڈ گورننس کی مد میں حکومت کے 85کروڑ روپے بچائے ،24ریفرنس بھیجے گئے ، صرف ضیاء اللہ آفریدی کا ریفرنس4ارب روپے کا ہے ، پاکستان تو دور کی بات پورے خطے میں ایسے احتساب کمیشن کی مثال نہیں ملتی جو حکومت کی دسترس سے دور ہو کر کام کرے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف کوئی کیس ہو تو کمیشن انہیں بھی ٹرائل کر سکتا ہے ، اداروں میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں ، احتساب کمیشن کے افسران بھی اختلافات ہوں گے ،ا گر وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر کوئی الزام ہے تو ان کے خلاف کوئی ایک بھی ثبوت صوبائی احتساب کمیشن ،نیب یا دیگر احتساب کے اداروں میں لایا جائے ، ضیاء اللہ آفریدی پہلے استعفیٰ دیں پھر الزامات لگائیں ، صوبائی احتساب کمیشن سمیت کہیں بھی کرپشن نظر آتی ہے تو چیف جسٹس ازخود نوٹس لیں ۔ (م ن)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…