پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

ضیا ء اللہ آفریدی کوالزامات لگانا مہنگا پڑ گیا،مشتاق غنی کا پلٹ کر وار

datetime 14  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات مشتاق غنی نے کہا ہے کہ ضیا ء اللہ آفریدی صوبائی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیں پھر الزامات لگائیں ، جس پارٹی کے نشان پر انہوں نے انتخاب جیتا اسی کے سربراہ پر الزامات لگاتے ہوئے انہیں شرم آنی چاہیے ، پاکستان تو دور کی بات پورے خطے میں خیبرپختونخوا احتساب کمیشن جیسے شفاف ادارے کی مثال نہیں ملتی ، وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت ہے تو الزامات کی بجائے احتساب کمیشن یا نیب میں پیش کیا جائے ۔ وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان جیسے بڑے لیڈر کو کوئی بے وقوف نہیں بنا سکتا ، ضیا ء اللہ آفریدی کے الزامات پر افسوس ہوا، عمران خان کی ہر بات پر نظر ہے ، ضیاء اللہ آفریدی کو اگر احتساب کمیشن کے کسی کمشنر پر اعتراض ہے کہ وہ کرپٹ ہیں تو عدالتیں موجود ہیں ، وہ عدالت جائیں ، ثبوت دیں اور اس کی کرپشن کو ثابت کریں ، ابھی ضیاء اللہ آفریدی پر خود کیس ہے انہیں عمران خان سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے خود ان سے الزامات پر معافی مانگنی چاہیے ۔ مشتاق غنی نے کہا کہ ضیا ء اللہ آفریدی کو اسمبلی کی رکنیت سے مستعفیٰ ہوکر عوام کی عدالت میں جانا چاہیے ،انہوں نے جس پارٹی کے نشان پر الیکشن جیتا اس کے سربراہ کے خلاف الزامات لگا رہے ہیں ۔

مشتاق غنی نے کہا کہ صوبائی احتساب کمیشن کو ڈیڑھ سال کام کرنے کا موقع ملا اتنے عرصے میں انہوں نے گڈ گورننس کی مد میں حکومت کے 85کروڑ روپے بچائے ،24ریفرنس بھیجے گئے ، صرف ضیاء اللہ آفریدی کا ریفرنس4ارب روپے کا ہے ، پاکستان تو دور کی بات پورے خطے میں ایسے احتساب کمیشن کی مثال نہیں ملتی جو حکومت کی دسترس سے دور ہو کر کام کرے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف کوئی کیس ہو تو کمیشن انہیں بھی ٹرائل کر سکتا ہے ، اداروں میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں ، احتساب کمیشن کے افسران بھی اختلافات ہوں گے ،ا گر وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر کوئی الزام ہے تو ان کے خلاف کوئی ایک بھی ثبوت صوبائی احتساب کمیشن ،نیب یا دیگر احتساب کے اداروں میں لایا جائے ، ضیاء اللہ آفریدی پہلے استعفیٰ دیں پھر الزامات لگائیں ، صوبائی احتساب کمیشن سمیت کہیں بھی کرپشن نظر آتی ہے تو چیف جسٹس ازخود نوٹس لیں ۔ (م ن)



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…