پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

تحریک انصاف کے اپنے ہی اہم رہنما نے عمران خان سے معافی کا مطالبہ کردیا،سنگین الزامات عائد

datetime 13  جنوری‬‮  2017 |

پشاور(آئی این پی ) تحریک انصاف کے منحرف رکن صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ آفریدی نے مطالبہ کیاہے کہ عمران خان ملک کی تاریخ کے سب سے بدعنوان احتساب کمیشن بنانے پرمجھ سمیت پوری قوم سے معافی مانگیں اورجس مغربی جمہوریت کی وہ ہر وقت مثالیں دیتاہے اس جمہوریت کو اپنی جماعت میں بھی قائم کرکے ورکروں کی مشکلات کاازالہ کرے۔پشاورپریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ آفریدی نے کہاکہ احتساب کمیشن سفیدپوشوں کیساتھ بیوروکریسی اور شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے کیلئے قائم کیاگیاہے اس کمیشن کابنیادی مقصد اپنے سیاسی مخالفین کو دبانا ہے افسرشاہی کو جس طریقے سے بلیک میل کیاجارہاہے ردعمل میں وہ سرکاری کام میں رخنے ڈال رہی ہے اس بدعنوان کمیشن کیخلاف وہ میدان میں نکلے ہیں اور پشاورہائیکورٹ کے ساتھ ہر فورم پر اس بدعنوان کمیشن کے خلاف آوازاٹھائینگے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان پوری دنیا کو مغربی تہذیب کے قصے سناکر متاثر کرنے کی کوشش کرتاہے جس جمہوریت کی وہ خودمثالیں دیتاہے سب سے پہلے انہیں اپنی سیاسی جماعت میں قائم کرناچاہئے ،پارٹی میں تو وہ خودورکرکی سنتا نہیں ملک کی تاریخ کی بدعنوان ترین کمیشن بنانے پرعمران خان قوم سے معافی مانگے کیونکہ اس کمیشن نے بیوروکریسی کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ سیاسی مخالفین کوبھی نشانہ بنایاہے انہوں نے کہاکہ کمیشن کے ایڈیشنل ڈائریکٹر میجراحسن اپنے ہی کمشنرکیخلاف چارٹ شیٹ تیارکررہاہے دوسری جانب کمشنراپنے ڈائریکٹر پر الزامات عائد کررہاہے بتایاجائے کمشنربدعنوان ہے یا ڈائریکٹر۔احتساب کمیشن میں مسلسل ترامیم لاکرسیاسی مخالفین کو زیرکرنے کی کوشش کی جارہی ہے احتساب کمیشن کے ملازمین کی بھرتی بھی مکمل طور پر غیرقانونی ہوئی ہے جب کمیشن خودغیرقانونی ہے تو وہ دوسروں کاکیااحتساب کریگا۔اپنی سیاسی مستقبل کے حوالے سے سوال کے جواب میں ضیاء اللہ آفریدی نے کہاکہ انہوں نے تاحال کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیاہے وقت آنے پر وہ میڈیا کے سامنے اپنی شمولیت کلیئرکردینگے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…