اتفاقاً فاطمہؒ ان کے کمرے میں چلی آئیں تو کیا دیکھا کہ وہ جائے نماز پر بیٹھے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر زار و قطار رو رہے ہیں۔ آنسوؤں نے ان کے رخسار اور داڑھی کو بھگو دیا ہے۔ بیوی اپنے شوہر کی یہ حالت دیکھ کر گھبرا گئیں۔ پوچھا، آپ کیوں رو روہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا۔ فاطمہ ؒ ! بڑے افسوس کی بات ہے کہ مجھے اس امت کا والی بنا دیا گیا ہے۔ اس طرح میرے اوپر اس امت کے بھوکوں، فقیروں، مریضوں، بے چاروں، یتیموں، بیواؤں، مظلوموں، مسافروں، عیال داروں، کم آمدنی والوں اور ان جیسوں کی ذمے داری لاد دی گئی ہے۔ یہ لوگ دور دراز علاقوں اور دور کے فرما لیا کرتے تھے؟ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا۔ رسول ﷺ کے لئے تو وہ ہدیہ ہوتا تھا مگر ہمارے لئے یہ رشوت ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































