منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

کینسر کے مریضوں کیلئے شاندار خوشخبری ۔۔ سائنسدانوں کو بڑی کامیابی مل گئی

datetime 13  جنوری‬‮  2017 |

لندن(این این آئی)سائنس دانوں نے کہا ہے کہ جانوروں پر کیے جانے والے تجربات میں جسم میں کینسر کا پھیلاؤ 75 فیصد تک روکنے میں کامیابی ملی ہے۔عام طور پر کینسر کی رسولی جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتی ہے اور یہ عمل یہ اس مرض کے باعث ہونے والی 90 فیصد اموات کا باعث بنتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سائنسی رسالے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جسم کے مدافعتی نظام میں تبدیلی سے جلد کے کینسر کا پھیپھڑوں تک پھیلاؤ محدود کیا جا سکتا ہے۔کینسر ریسرچ یو کے نے کہا کہ اس ابتدائی تحقیق سے رسولی کے پھیلاؤ کے عمل پر روشنی پڑی ہے اور اس سے نئے علاج وضع کرنے میں مدد ملے گی۔کیمبرج میں واقع سینگر انسٹی ٹیوٹ کی ٹیم نے اس موضوع پر تحقیق کی کہ کینسر کی رسولی کسی طرح سے جسم کے ایک حصے سے نکل کر دوسرے حصوں تک پھیل جاتی ہے۔انھوں نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ 810 چوہوں پر تجربات کیے جن سے معلوم ہوا کہ ان کے ڈی این اے کا ایک حصہ کینسر کے پھیلاؤ میں مزاحمت کر رہا تھا۔ان چوہوں میں جلد کے کینسر کے خلیے انجیکٹ کیے گئے اور اس کے بعد سائنس دانوں نے دیکھا کہ چوہوں کے پھیپھڑوں میں کتنی رسولیاں بنتی ہیں۔چوہوں کے ڈی این اے کے مشاہدے سے پتہ چلا کہ 23 ایسے جین ہیں جو کینسر کے پھیلاؤ میں یا تو مدد دیتے ہیں یا پھر اس میں خلل ڈالتے ہیں۔ان میں سے بہت سے جینز کا تعلق مدافعتی نظام سے تھا۔خاص طور پر Spns2 نامی ایک جین ایسا پایا گیا جس کی وجہ سے رسولی کا پھیپھڑوں تک پھیلاؤ تین چوتھائی حد تک رک گیا۔ایک سائنس دان ڈاکٹر ڈیوڈ ایڈمز نے بتایاکہ یہ جین پھیپھڑوں کے اندر جسم کے مدافعتی نظام کا توازن برقرار رکھتا ہے۔ یہ رسولی کے خلیوں کو ہلاک کرنے خلیوں اور مدافعتی نظام کو بند کرنے والے خلیوں کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے۔حال میں ایک نیا طریقہ علاج سامنے آیا ہے جسے امیونو تھیرپی کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں کینسر کا علاج مدافعتی نظام کی مدد سے کیا جاتا ہے اور بعض مریضوں میں اس کے ڈرامائی نتائج سامنے آئے ہیں۔اس علاج کے بعد کچھ انتہائی بیمار مریضوں میں کینسر مکمل طور پر ختم ہو گیا، تاہم بعض مریضوں میں اس نے کام نہیں کیا۔مستقبل میں ایسی ادویات بنائی جا سکتی ہیں جو Spns2 جین پر عمل کر کے کینسر کی نشو و نما روک دیں۔کینسر ریسرچ یو کے کے ڈاکٹر جسٹن ایلفورڈ نے کہاکہ پھیل جانے والے کینسر کا علاج کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے اس قسم کی تحقیق انتہائی اہم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…