جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی،سپریم کورٹ نے واضح اعلان کردیا

datetime 10  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے پاناما کیس کی سماعت کی۔اس موقع پرسپریم کورٹ نے قراردیاہے کہ تقریر کی بنیاد پر کسی کو نااہل قرار دینے کی مثال قائم کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، تقریر پر فوجداری کیس کیسے بن سکتا ہے؟ رقم منتقلی میاں شریف نے کی تو حساب بچوں سے کیسے مانگ سکتے ہیں ؟ عدالت نے سوال کیا کیا تحریک انصاف پاناما کے معاملے سے پیچھے ہٹ رہی ہے ؟۔

پاناماکیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے سوال اٹھایا کہ کیا تقریر پر کسی کو نااہل کرسکتے ہیں ؟ تقریر کی بنیاد پر کسی کو نااہل قرار دینے کی مثال قائم کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، وزیر اعظم کی تقریر پر فوجداری کیس کیسے بن سکتا ہے ، ہم وزیر اعظم کی پاناما پیپرز میں ذمہ داری کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم کی قومی اسمبلی میں تقریر پر فیصلہ سنا دیں ۔ فیصلہ دینے کے لیے دستاویزات کا جائزہ لینا ضروری ہے ، کیا قانونی معیار پر پورا نہ اترنے والی دستاویزات پر فیصلے دے سکتے ہیں ، آپ کہتے ہیں مریم نواز شریف بینی فشل ہیںجبکہ مریم نوازکہتی ہیں کہ وہ ٹرسٹی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگروزیراعظم نے کچھ غلط کیاہے تواس کافیصلہ بھی شواہدکی بنیادپرکیاجائے گا۔سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریرمیں جدہ فیکٹری کےلئے سرمایہ سعودی بینک سے لینے کی بات کی جبکہ دوسری تقریرمیں انہوں نے سعودی بینک اوردبئی سٹیل میں سرمایہ کاری کرنے کاذکرکیاہے ۔اس موقع پرجسٹس اعجازافضل نے کہاکہ شریف فیملی کاساراکاروبارمیاں شریف کے ہاتھوں میںتھا۔انہوں نے کہاکہ اس رقم کی منتقلی میں میاں شریف کے بچوں کوکیسے قابل احتساب ٹھہرایاجاسکتاہے اوراگرکچھ ہوابھی ہے تواس کے بچے کیسے ذمہ دارہوتے ہیں ۔

مقدمے کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ اسحاق ڈارکی منی لانڈرنگ کی تحقیقاتی رپورٹ تیارہوئی ہے جس پرجسٹس عظمت نے ان سے استفسارکیاکہ رپورٹ کس نے تیارکی تونعیم بخاری نے جواب دیاکہ رپورٹ رحمان ملک نے تیارکی تھی ۔اس پرریمارکس دیتے ہوئے جسٹس عظمت نے کہاکہ ایف آئی اے کی رپورٹ پرفیصلہ نہیں دے سکتے کیونکہ وہ رپورٹ پہلے ہی مستردکی جاچکی ہے اوراس پرفیصلہ دیابھی نہیں دیاجاسکتاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…