جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی فنڈنگ کہاں سے آ رہی ہے؟ انکشاف نے سب پاکستانیوں کو حیران کر دیا

datetime 4  جنوری‬‮  2017 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی سیاستدانوں کاوطیرہ ہے کہ پاکستان کا غریب چہرہ دکھا کر بیرون ممالک سے امداد وصول کی جائے اور ملنی والی امداد سے خرد برد کی جائے۔ بینظیر انکم سپورٹ فنڈ کے نام سے آپ ضرور واقف ہوں گے۔ ملک بھر میں لاکھوں غریب خاندانوں کی مالی مدد کے لئے شروع کئے گئے اس پروگرام کے تحت ہر سال اربوں روپے تقسیم کئے جاتے ہیں،

یا یوں کہئیے کہ کم از کم اربوں روپے کے عطیات باہر سے وصول ضرور کئے جاتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اس پروگرام کے لئے سالانہ کروڑوں پاؤنڈ برطانیہ سے بھی آ رہے ہیں، اور یہ جان کر افسوس بھی ہو گا کہ اس بھاری رقم میں مبینہ طور پر وسیع پیمانے پر خردبرد کی جا رہی ہے,رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کو فراہم کی جانے والی امداد 2005ء4 میں 53 ملین پاؤنڈ تھی جو 2011ء سے 2015ء کے درمیان سالانہ اوسطاً 219 ملین پاؤنڈ تک پہنچ چکی ہے، جس میں سے ایک ایسی سکیم کے لئے 30 کروڑپاؤنڈ (تقریباً 45ارب پاکستانی روپے) وقف کئے گئے ہیں کہ جس کے بارے میں کرپشن کے الزامات کی بھرمار ہے۔ برطانوی حکام کو بتایا گیا ہے کہ اس سکیم کے تحت دو لاکھ 35 ہزار خاندانوں کو مدد فراہم کی جارہی ہے جو ہر تین مہینے بعد رقم نکلواتے ہیں۔ سکیم کے بارے میں سامنے آنے والے الزامات کے باوجود 2020ء تک اسے 4لاکھ 41ہزار خاندانوں تک پھیلانے کی بات کی جارہی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی مجموعی امداد ایک ارب پاؤنڈ (تقریباً ڈیڑھ کھرب پاکستانی روپے) سے تجاوز کرگئی ہے۔ فراڈ اور کرپشن کے الزامات سامنے آنے کے بعد برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے ہنگامہ برپا کردیا ہے اور امداد روکنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف پاکستان جیسے ممالک کو امداد بند کی جائے بلکہ برطانیہ کی جانب سے غیر ملکی امداد کے لئے وقف کیا گیا قومی آمدنی کا 0.7 فیصد کوٹہ ہی ختم کردیا جائے۔

برطانوی سیاستدان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں امراء ٹیکس نہیں دیتے اور کرپشن کی بھرمار ہے، تو ہر سال کروڑوں پاؤنڈز کی امداد دینا دراصل کرپٹ حکام کی جیبیں گرم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اربوں روپے کی امداد غریب لوگوں تک نہیں پہنچ رہی تو اسے بند کیوں نہ کر دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…