فسطاط عربی زبان میں خیمہ کو کہتے ہیں۔ مگر تعجب انگیز امر یہ ہے کہ فسطاط مشرق وسطیٰ کا ایک عظیم شہر ہے آخر ایک شہر کا نام فسطاط یعنی خیمہ کیوں رکھا گیا جو آدمی بھی سنتا ہے تعجب میں پڑ جاتا ہےکیونکہ اس شہر میں تو بلند و بالا عمارتیں ہیں۔ ہوٹل، کاروباری مراکز، سکول اور کالج کیا نہیں ہے اس شہر میں۔ اس کے باوجود اس کا نام فسطاط ہے۔بعض لوگ سوچیں گے کہ شاید اگلے زمانوں میں یہ شہر خیموں کا شہر رہا ہو گا
لیکن ایسا نہیں ہے گزشتہ زمانوں میں بھی یہ ایک عظیم الشان شہر تھا جس کی عظمت کی گواہی آج تک اس شہر کے کھنڈرات دیتے ہیں قصہ اصل میں یہ ہے کہ جس زمانے میں اسلامی فوجیں اسکندریہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھیں، اسلامی افواج کی نگرانی کے لئے گورنر مصر حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہ کو فسطاط شہر میں قیام کرنا پڑا اور ان کا خیمہ وہاں نصب کیا گیا۔ اسی طرح حضرت عمروابن العاصؓ کو کئی مہینے فسطاط میں قیام کرنا پڑا۔محاصرہ اللہ کی مہربانی سے کامیاب ہوا اور اسلامی افواج فاتحانہ اسکندریہ میں داخل ہو گئیں۔ اس بات کی اطلاع گورنر مصر کو فسطاط میں دی گئی اور اسلامی افواج کے کمانڈر نے حضرت عمرو ابن العاص کو اسکندریہ آنے کی دعوت دی جب روانگی کا وقت قریب آیا تو گورنر مصر حضرت عمر ابن العاص نے حکم دیا کہ خیمہ اکھاڑ لیا جائے۔ مزدور خیمہ اکھاڑنے میں مصروف تھے کہ ٹہلتے ٹہلتے جناب عمرو ابن العاص خیمہ میں آ گئے دیکھا کہ ایک کبوتر نے خیمے کے ایک کونے میں گھونسلہ بنا دیا ہے اور کبوتری نے انڈے دے رکھے ہیں۔ خیمہ اگر اکھاڑ دیا جاتا تو کبوتر کا گھونسلہ اجڑ جاتا اور انڈے ٹوٹ جاتے۔ گورنر نے حکم دیا کہ خیمے کو اسی حال میں چھوڑ دیا جائے کیونکہ میں آشیانہ اجاڑنے نہیں آیا ہوں
بلکہ آشیانہ بنانا یا بنوانا میرا کام ہے۔ خیمہ بہت قیمتی تھا مزدوروں کو سخت تعجب ہوا کہا کہ حضور! جب اس خیمے میں کوئی رہے گا نہیں تو یہ بارش میں بھیگ کر اور دھوپ سے جھلس کر ضائع ہو جائے گا۔ گورنر مصر نے جواب دیا کہ خیمہ ضائع ہو جائے تو ہو جائے میں کبوتر کے آشیانے کو اجاڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ خیمہ کھڑا رہا محض اس لئے کہ ایک بے زبان چڑیا بے ٹھکانا نہ ہو جائے
گورنر مصر کا یہ عمل دراصل اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔ چونکہ یہ خیمہ عرصے تک کھڑا رہا اس لئے اس مناسبت سے اس شہر ہی کا نام فسطاط یعنی خیمہ پڑ گیا۔ جب تک یہ شہر رہے گا اور اس کا یہ نام رہے گا جانوروں سے ہمدردی کرنے کا یہ نمونہ زندہ و پائندہ رہے گا۔



















































