ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

چھوٹے لوگ

datetime 19  دسمبر‬‮  2016 |

ایک بستی میں کوئی بھوکا شخص آ گیا.. لوگوں سے کچھ کھانے کو مانگتا رھا مگر کسی نے کچھ نہیں دیا..بیچارہ رات کو ایک دکان کے باہر فٹ پاتھ پر گیا.. صبح آ کر لوگوں نے دیکھا تو وہ مر چکا تھا..اب “اھل ایمان” کا “جذبہ ایمانی” بیدار ھوا..بازار میں چندہ کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دیگیں چڑھا دی گئیں.. یہ منظر دیکھ کر ایک صاحب نے کہا.. ” ظالمو ! اب دیگیں چڑھا رھے ھو.. اسے چند لقمے دے دیتے تو یہ یوں ا

یڑیاں رگڑ رگڑ کر نا مرتا..”پچھلے دنوں ایک تاجر نے ایک مزار پر دس لاکھ روپے مالیت کی چادر چڑھائی جب کہ مزار کے سامنے کے محلے میں درجنوں ایسے بچے گھوم رھے ھوتے ھیں جنہوں نے قمیض پہنی ھوتی ھے تو شلوار ندارد اور شلوار ھے تو قمیض نہی.. حضرت مجدد الف ثانی فرمایا کرتے تھے کہ تم جو چادریں قبر پر چڑھاتے ھو اس کے زندہ لوگ زیادہ حقدار ھیں..ایک شخص رکے ھوئے بقایاجات کے لیے بیوی بچوں کے ساتھ مظاہرے کرتا رھا.. حکومت ٹس سے مس نا ھوئی.. تنگ آ کر اس نے خود سوزی کرلی تو دوسرے ہی روز ساری رقم ادا کر دی گئی..اسی طرح ایک صاحب کے مکان پر قبضہ ھو گیا.. بڑی بھاگ دوڑ کی مگر کوئی سننے کو تیار نہی ھوا.. اسی دوران دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ھوئے اسے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ھوا.. پولیس نے پھرتی دکھائی اور دوسرے ھی دن مکان سے قبضہ ختم کروا دیا..فائدہ..؟؟؟کیا اب اس مکان میں اس کا ھمزاد آ کر رھے گا..؟؟؟کیا ھمارا “جذبہ ایمانی” صرف مردوں کے لیے رہ گیا ھے..؟؟؟ایک منٹ کو رکیے اور آنکھیں بند کر کے اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائیں.. اپنے پڑوسیوں پر ‘ اپنے رشتےداروں پر ‘ جو آپ کی گلی میں ٹھیلے والا ھے اس پر ‘ جو ایک مزدور آپ کے محلے میں کام کر رہا ھے

اس پر ‘ جو آپ کے ھاں یا اپ کے دفاتر میں چھوٹے ملازم ھیں ان پر..یہ سب لوگ ھمارے کتنا قریب رھتے ھیں اور ھمیں معلوم بھی نہی ان کے ساتھ کیا کچھ بیت رھی ھے.. ھمیں اس لیے نہی معلوم کہ ھم ان کے قریب رھتے ھوئے بھی ان سے دور ھیں.. ھم نے کبھی ان کا احساس کیا ھی نہی.. کبھی ھم نے ان سے کچھ پوچھا بھی نہی بلکہ شائد ھمیں ان “چھوٹے” لوگوں سے بات کرتے ھوئے شرم آتی ھے..کبھی کبھی مجھے حیرت ھوتی ھے

کہ ھم “جوش ایمان” میں ایک ایک گلی میں تین تین چار چار مساجد بنا دیتے ھیں ‘ انھیں خوب سجا دیتے ھیں لیکن اسی گلی میں کئی غریب رات کو بھوکے سوتے ھیں ان کی طرف کوئی دھیان ہی نہی دیتا.. کسی بیمار کے پاس دوائی خریدنے کے لیے پیسے نہی ھوتے اس کی مدد کو کوئی “صاحب ایمان” آگے نہی آتا..ھم سب کے ارد گرد ایسے ھزاروں لوگ موجود ھیں جو مجبور ھیں ‘ جو بےکس ھیں ‘ جو غریب ھیں ‘ جن پر ھم کبھی توجہ ہی نہی دیتے.. ان کو اپنے قریب کیجیے.. ان کی جو ممکن ھو مدد کیجیے.. اور جو

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…