حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن خلاف معمول لوگوں کو مسجد میں جمع کیا اور ممبر پر تشریف فرما ہو کر فرمایا۔”لوگو ایک وقت تھا جب میں مفلس و محتاج تھا اور اجرت پر لوگوں کے اونٹ چَرایا کرتا تھا، عام بہشتی کی طرح پانی بھر بھر کر گزارے کے لائق دام اکٹھے کرلیتا تھا۔” یہ کہہ کر منبر سے نیچے اتر آئے.لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کیا ماجرا ہے
اور آپ نے یہ بات کیوں کی۔ لوگوں کے پوچھنے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا.”میرے دل میں خیال آیا کہ میں دوسرے مسلمانوں سے بہتر ہوں اس لیے ہی مجھے خلیفہ بنایا گیا ہے ۔ مجھ میں کچھ غرور آ گیا تھا۔ پس میں نے سمجھا کہ اپنے ماضی کی حالت زار بیان کروں تاکہ میرا غرور دور ہو جائے۔”



















































