جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

سانحہ بلدیہ ٹائون !آگ کس نے لگوائی ؟ رحمان بھولا کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 17  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)سانحہ بلدیہ کے مرکزی کردار رحمان عرف بھولا نے جے آئی ٹی کے رو برو بلدیہ فیکٹری میں آگ لگانے کا اعتراف کر لیاہے، ایم کیو ایم تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی کے کہنے پر فیکٹری میں آگ لگائی تھی، آگ ڈرانے کیلئے لگائی تھی ، بلدیہ ٹاون فیکٹری مالکان سے 25کروڑروپے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔تفصیلات کے مطابق سانحہ بلدیہ کے مرکزی کردار رحمان بھولا نے جے آئی ٹی کے روبرو سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔
سانحہ بلدیہ کے مرکزی کردار رحمان عرف بھولا نے جے آئی ٹی کو بیان دیا ہے کہ 25 کروڑ بھتے کا تنازع تھا جس پر آگ لگائی گئی، آگ اتنی پھیل جائے گی اس کا اندازہ نہیں تھا، زبیر چریا اور میں نے آگ لگانے کی پلاننگ کی، تنظیمی کمیٹی کے انچارج حماد صدیقی کے کہنے پر فیکٹری میں آگ لگائی گئی۔رحمان بھولا نے جے آٹی کو بتایا ہے کہ آگ کے واقعہ کے بعد 5 کروڑ 85 لاکھ روپے فیکٹری مالکان سے بھتہ لیا۔ بھتہ تنظیم کی 2 اہم سیاسی شخصیات نے لیا۔ ملزم نے بتایا کہ وہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق رحمان بھولا نے یہ بھی بتا دیا کہ اس کے ذمے مختلف تحریکوں کو کچلنا بھی تھا۔واضح رہے کہ کراچی میں آگ لگانے کے واقعات میں ملوث ماسٹر مائنڈ حماد صدیقی کا سراغ لگا لیا گیا ہے ، رحمان بھولا کے انکشافات کے بعد ایف آئی اے نے حماد صدیقی کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ماسٹر مائنڈ حماد صدیقی متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہے ، ایف آئی اے نے گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کر لیا ہے۔
حماد صدیقی شہریوں کو خوف میں مبتلا کرنے کا ماہر تھا ، صدیقی کی گرفتاری کے لئے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لئے انٹرپول سے رابطہ کرلیا گیاہے ، ملزم حماد صدیقی ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات میں روپوش ہے



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…