جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد میں معروف بلڈنگ کرپشن سکینڈل کے مرکزی ملزم کو بچانے کیلئے نواز شریف کی قریبی کون سی اہم شخصیت میدان میں کود پڑی؟

datetime 14  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد( آن لائن ) چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز صفا گولڈ مال پلازہ سکینڈل کے مرکزی ملزم کو بچانے کیلئے میدان میں کود پڑے ۔ صفا گولڈ مال کے مالک رانا قیوم کو چار کی بجائے سات منزلیں تعمیرکرنے کی اجازت دے کر قومی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے والے سی ڈی اے کے اعلیٰ افسر ملک مرتضی کو بچانے کیلئے سی ڈی اے اور نیب حکام میدان میں کود پڑے ہیں سی ڈی اے کے گریڈ اٹھارہ کے اعلی افسر غلام مرتضی ملک کو سی ڈی اے کے انکوائری کمیٹی نے ملزم قرار دے کر متعلقہ حکام کو سفارش کی تھی کہ ان کیخلاف مجرمانہ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے اور قومی خزانہ کو پہنچائے گئے نقصانات کا ازالہ ان سے لیا جائے ۔
آن لائن کو ذرائع نے بتایا ہے کہ غلام مرتضی ملک انتہائی بااثر افسر ہیں جو کہ چارہ ماہ کے بعد ریٹائرڈ ہو جائیں گے غلام مرتضی ملک چیئرمین سی ڈی اے شیخ انصر عزیز کی تعمیراتی فم کو ماضی میں مالی مفادات پہنچاتے رہے ہیں اب چار ماہکے وقت گزارنے کیلئے شیخ انصر عزیز نے سی ڈی اے کے سابقہ تحقیقاتی رپورٹ کو ختم کرکے ازسرنو تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے اس تحقیقات کا واحد مقصد غلام مرتضی ملک کو بچانا ہے اور ریٹائرمنٹ تک ان کو قانون کے شکنجے سے بچانا ہے غلام مرتضی ملک نے نیب کیافسران کو بھی مالا مال کرکے اپنے حق میں کررکھا ہے نیب بھی گزشتہ کئی ماہ سے زائد اس انکوائری کو مکمل کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ شیخ انصر عزیز کا صفا گولڈ مال کرپشن سکینڈل کے ملزمان کو بچانے کیلئے میدان میں کود پڑنے سے ان کے منفی عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں تاہم عدالت نے یہ حکم دے رکھا ہے کہ سی ڈی اے میں اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے افسران کیخلاف اب انکوائری ایف آئی اے مکمل کرے تاہم ایف آئی اے بھی اس سکینڈل کی تحقیقات م کمل کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے سی ڈی اے کے ترجمان نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کردیا ہے ۔واضح رہے کہ چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد شیخ عنصر وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی سیاسی ساتھی ہیں اور انہیں وزیر اعظم کے گرین سگنل پر میئر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے بنایا گیا ہے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…