ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک ارب پتی کی دریا دلی

datetime 10  دسمبر‬‮  2016 |

غربت سے امارت تک کا سفر تو بہت سے طے کرتے ہے۔ مگر شیانگ شوجیسی سخاوت اور دریادلی کا مظاہرہ کوئی کوئی کرتا ہے۔ شیانگ کا شمار دینا کے امیر ترین افراد میں ہوتا ہے۔ اس کے پاس دینا کی ہر آسائش نعمت موجو د ہے وہ اربو ں میں کھیل رہا ہیںمگر یہ دولت اسے وارثت میں نہیں ملی بلکہ اپنی محنت اور قسمت کے سہارے ملی۔

شیانگ نے ایک عسرت زددہ گھرانے میں آنکھ کھولی اس کا خاندان مغربی چین کے شہر سن یو کی حدود میںواقع ہے والد روایتی کسان تھے ان کے پاس بہت تھوڑی سی زمین تھی جس سے بہ مشکل گزر بسر ہو پاتی شیانگ کے والد ہمدرد دل رکھتے تھے ۔ گاوں کے باسیوں کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھےاسی وجہ سے وہ گاوں میں ہر دلعزیز شخصیت تھے ۔ یہی جزبہ گاوں کے دوسرے باشندوں میں موجود تھا شیانگ کے خاندان کو اکیلا نہیں چھوڑتے تھے یہی وجہ ھیکہ مالدار بننے کے باوجود بھی شیانگ نے انھیں یاد رکھا ۔

غربت کے باوجود بھی شیانگ کے والد ین نے اپنی بساط سے بڑھ کر تعلیم دلائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شیانگ ملازمت کرنے لگامختلف نوکریاں کرنے کے بعد شیانگ نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا فصیلہ کیا ۔ اس نے تمتراتی شعبے مین قدم رکھاقسمت نے اس کا ہاتھ تھاما اور وہ برقی رفتار سے ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا دو عشروں کر بعد وہ شین کے مال دار افراد میں شمار ہونے لگا ۔ تعمیراتی شعبے میں اس کی کمپنی کا نام بن چکا تھا پھر اچانک اسے لوہے اور سٹیل کا کاروبار کرنےکی سوجھی یہ فصیلہ شیانگ کے لیے سو فصید ثابت ہوا اسکی دولت اور برقی رفتار میں اضافہ ہونے لگا۔ دولت کا انبار لگ جانے کے بعد شیانگ کو خیال آیا کہ اب گاوں کے باسیوں کے احسانات کا بدلہ چکانہ ہے پانچ سال پہلے وہ اپنے آبائی گاوں پہنچا۔

حیران کن طور پر اس عرصے میں گاوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور نہ ہی حالات بدلےشیانگ نے جب ان سے اپنا تعارف کروایاتو انھوں نے گرم جوشی سے اسے ولیکم کہا شیانگ نے جب خوشی کا اظہارکیا تو وہ شکل دکھنے لگے جب انھیں پتہ چلا کہ اپنے گھروں کو پر تعیش فلیٹوں میں تبدیل انکی ایک پائی بھی خرچ نہیں ہو گی ۔پانچ سال تک شیانگ کینگ چین کا رواتی گاوں تھا مگر آج یہاں پرانے مکانات کی بجاے لگثرری فلیٹوں کا سلسہ نظر آتا ہےشےانگ کا کہنا ہے کہ گاوں کے لوگوں اس کے اہل خانہ نے بہت ساتھ دیا شیانگ کینگ میں آج 72 خاندان پر تعیش فلیٹوں میں اپنی زندگی گزار رے ہے شیانگ نے گاوں کے ساتھ ایک علحدہ پروجیکتٹ میں خوبصورت بنگلے بنا کر دیے جن لوگوں کا زریعہ معاش نہیں ہے یا جن کی آمدنی کم ہے شیانگ کی جانب سی تین وقت کا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…