مولانا جلال الدین رومیؒ کی رفیق القلبی اور شدتِ احساس کا یہ عالم تھا کہ کسی شخص کی ذرا سی تکلیف بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے برعکس اپنی ذات پر آفات و مصائب کے پہاڑ بھی ٹوٹ پڑے تو حرفِ شکایت زبان تک نہ لاتے۔ایک بار شدید سردی پڑ رہی تھی۔ مولانا رومؒ کسی کام سے اپنے خلیفہ حسام الدین چپلیؒ کے مکان پر تشریف لے گئے رات بہت زیادہ گزر چکی تھی۔
مولانا جب وہاں پہنچے تو حسام الدینؒ کے گھر کے تمام دروازے بند ہو چکے تھے اگر مولانا چاہتے تو نصف شب بھی اس مکان پر دستک دے کر اہل خانہ کو بیدار کر سکتے تھے اور آپ کا یہ عمل حسام الدین چلپیؒ کے لئے باعث شرف ہوتا۔۔۔لیکن مولانا رومؒ نے دروازہ کھٹکھٹایا اور نہ کسی کو آواز دی۔ رات بھر کھلے آسمان کے نیچے کھڑے رہے اور برف گر کر سر پر جمتی رہی۔ صبح جب حسام الدین چلپیؒ کے ایک خادم نے دروازہ کھولا اور مولانا کو اس حالت میں کھڑے دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔وہ بدحواسی کے عالم میں مکان کے اندر گیا اور حسام الدین چلپیؒ کو خبر دی۔ مولانا رومؒ کے خلیفہ دیوانہ وار ننگے پاؤں بابگتے ہوئے آئے اور پیر و مرشد کے قدموں میں سر رکھ کر رونے لگے۔ مولانا نے انہیں اٹھا کر گلے سے لگایا اور بہت دیر تک تسلی دیتے رہے۔ جب حسام الدینؒ کے آنسو رک گئے تو فرمایا۔”میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ تمہاری نیند میں خلل پڑے اور میری وجہ سے دوسرے مکینوں کو زحمت ہو۔”یہ واقعہ اس قدر اثر انگیز تھا کہ حسام الدین چلپیؒ آخری سانس تک اس رات کو فراموش نہ کر سکے۔ اکثر اپنے مریدوں کو درس دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے۔”پیر و مرشد کا یہ عمل اس لئے تھا کہ ہم درویشی کا مفہوم سمجھ سکیں اور اپنی آنکھوں سے خدمتِ خلق کی زندہ تصویر دیکھ سکیں۔”



















































