شہر قونیہ میں گرم پانی کا ا یک چشمہ تھا۔ مولانا رومؒ کبھی کبھی وہاں غسل کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ ایک بار مولانا نے اس چشمے پر جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ کچھ مریدوں اور خادموں نے ایک دن پہلے وہاں جا کر آپ کے غسل کے لئے مخصوص جگہ کا انتظام کر دیا دوسرے روز جب مولانا رومؒ وہاں تشریف لے گئے تو آپ کی آمد سے چند لمحے قبل کچھ جذامی (کوڑھی)اس مقام پر نہانے لگے خادموں نے خوفناک مرض میں مبتلا انسانوں کو ڈانٹ کر اس جگہ سے ہٹانا چاہا تو مولانا رومؒ نے سختی کے ساتھ منع کر دیا جب وہ جذامی نہا کر چلے گئے تو آپ نے اسی جگہ کا پانی لے کر غسل کیا اور پھر اپنے خادم سے فرمایا۔
“احتیاط اچھی چیز ہے مگر ایسے بیماروں سے نفرت نہیں کرنی چاہئے یہ لوگ بھی کل تک تمہاری طرح خوبصورت جسموں کے مالک تھے۔”
ایک بار محفل سماع آراستہ تھا۔مولانا رومؒ نہایت سکون سے عارفانہ کلام سن رہے تھے۔۔۔ مگر دوسرے لوگوں کا یہ حال تھا کہ کوئی فرش پر تڑپ رہا ہے اور کوئی اپنا گریبان چاک کر رہا ہے۔ اتفاق سے ایک شخص نے سماع کا کچھ زیادہ ہی اثر قبول کر لیا اور وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ بے خودی حد سے بڑھ گئی تو وہ کسی بسمل کی طرح لوٹنے لگا۔ تڑپتے تڑپتے اس پر ایک شدید کیفیت طاری ہوتی کہ وہ مولانا سے آ کر ٹکرا جاتا اور لوگ اسے پکڑ کر دور کر دیتے۔ کچھ دیر تک تو حاضرین نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا لیکن جب اس شخص سے کئی مرتبہ یہی حرکت سرزد ہوئی تو مولانا کے خادموں نے اسے پکڑا اور محفل میں دور لے جا کر بٹھا دیا۔ مولانا رومؒ کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔ آپ نے اپنے خدمت گاروں سے تلخ لہجے میں فرمایا۔
“شراب اس نے پی ہے اور مستی تم کر رہے ہو۔”



















































