ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت علی علیہ السلام اورایک یہودی

datetime 10  دسمبر‬‮  2016 |

حضرت علی علیہ السلام اس طرح نقل فرماتے ہیں کہ ایک یہودی حضرت سے چند دینار کا طلبگار تھا اور اس نے وہ دینار حضرت سے طلب کئے۔ آنحضرت نے فرمایا: اے مرد یہودی اس وقت تجھے دینے کے لئے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ یہودی نے کہا: جب ایسا ہے تو میں بھی آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ آپ میرا قرض واپس نہ کریں۔ پیغمبر نے فرمایا: کوئی حرج نہیں تیرے پاس بیٹھتا ہوں۔ حضرت وہیں بیٹھ گئے اور اسی جگہ نماز ظہر و عصر و مغرب و عشاء اور دوسرے دن کی صبح کی نماز ادا کی۔ اصحاب نے یہودی کو ڈرایا دھمکایا رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہ اصحاب پر پڑی اور آپ نے فرمایا: کیا کر ر ہے ہو؟ اصحاب نے فرمایا: اے اللہ کے رسول اس یہودی نے آپ کو قید کر رکھا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خدا نے مجھے اس لئے مبعوث نہیں کیا کہ میں کسی ذمی یا غیر ذمی پر ظلم ڈھاؤں ”
ابھی دن کا کچھ ہی حصہ گزرا تھا کہ وہ یہودی اقرار شہادتین کر کے مسلمان ہو گیا اس کے بعد کہا: میرا آدھا مال راہ خدا میں خرچ کیا جائے۔ 18
اگر اخلاق پیغمبر کو ایک جملے میں خلاصہ کرنا چاہیں تو اس کلام قرآنی سے بہتر اور کچھ نہیں ہوسکتا (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم ولو کنت فظا غلیظا القلب لا نفضوا من حولک فاعف عنھم واستغفر لھم وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ان اللہ یحب المتوکلین) 19 “اے پیغمبر یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے مہربان اور نرم خو ہو۔ اور اگر تم ان کے لئے تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے پاس نہ رکتے اور ادھر ادھر منتشر ہو جاتے “لہٰذا انہیں معاف کر دو اور ان کے لئے استغفار کرو اور (جنگی امور میں ) ان سے مشورہ کیا کرو اور جب پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً اللہ توکل (بھروسہ) کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے “۔
“فبما رحمۃ من اللہ”میں جو فاء ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا تعلق ما قبل کی آیات سے ہے جو جنگ احد میں بعض کی بد نظمی، بعض کے فرار اور تیسرے گروہ کی کار شکنی سے مربوط اور پیغمبر کی خوش اخلاقی اور نرم خوئی اور ان کے ساتھ پیغمبر کی مہربانی کو رحمت الٰہی کا نتیجہ قرار دیا ہے اس کے بعد (حرف شرط امتناعی) کے ذریعے جو کہ امتناع کے لئے استعمال ہوتا ہے فرماتا ہے : “بفرض محال اگر تم تند خو اور بد مزاج ہوتے تو سب تمھارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے ”
پیغمبر اسلام نے اس آیت سے سمجھ لیا کہ انہیں سبھی کے ساتھ حتی کہ ضعیف الایمان، منافقین، جنگ سے فرار کرنے والوں سے نرم خوئی اور مہربانی سے پیش آنا ہے حضرت رسول خداﷺ کی مرد یہودی کے ساتھ مہربانی اس آیت کریمہ کا مفاد ہے بہر حال یہ آیت گھر کے لوگوں یا کنیز و غلام سے سلوک کے سلسلہ میں نہیں ہے بلکہ ہر چیز سے پہلے اپنے دشمنوں سے بھی محبت آمیز روابط کی سفارش کرتی ہے اور پھر اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے دیگر کاموں میں بھی ان سے مشورہ کریں اور ان کے نظریات معلوم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…