حضرت علی علیہ السلام اس طرح نقل فرماتے ہیں کہ ایک یہودی حضرت سے چند دینار کا طلبگار تھا اور اس نے وہ دینار حضرت سے طلب کئے۔ آنحضرت نے فرمایا: اے مرد یہودی اس وقت تجھے دینے کے لئے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ یہودی نے کہا: جب ایسا ہے تو میں بھی آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ آپ میرا قرض واپس نہ کریں۔ پیغمبر نے فرمایا: کوئی حرج نہیں تیرے پاس بیٹھتا ہوں۔ حضرت وہیں بیٹھ گئے اور اسی جگہ نماز ظہر و عصر و مغرب و عشاء اور دوسرے دن کی صبح کی نماز ادا کی۔ اصحاب نے یہودی کو ڈرایا دھمکایا رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہ اصحاب پر پڑی اور آپ نے فرمایا: کیا کر ر ہے ہو؟ اصحاب نے فرمایا: اے اللہ کے رسول اس یہودی نے آپ کو قید کر رکھا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خدا نے مجھے اس لئے مبعوث نہیں کیا کہ میں کسی ذمی یا غیر ذمی پر ظلم ڈھاؤں ”
ابھی دن کا کچھ ہی حصہ گزرا تھا کہ وہ یہودی اقرار شہادتین کر کے مسلمان ہو گیا اس کے بعد کہا: میرا آدھا مال راہ خدا میں خرچ کیا جائے۔ 18
اگر اخلاق پیغمبر کو ایک جملے میں خلاصہ کرنا چاہیں تو اس کلام قرآنی سے بہتر اور کچھ نہیں ہوسکتا (فبما رحمۃ من اللہ لنت لھم ولو کنت فظا غلیظا القلب لا نفضوا من حولک فاعف عنھم واستغفر لھم وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ان اللہ یحب المتوکلین) 19 “اے پیغمبر یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے مہربان اور نرم خو ہو۔ اور اگر تم ان کے لئے تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ لوگ تمھارے پاس نہ رکتے اور ادھر ادھر منتشر ہو جاتے “لہٰذا انہیں معاف کر دو اور ان کے لئے استغفار کرو اور (جنگی امور میں ) ان سے مشورہ کیا کرو اور جب پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً اللہ توکل (بھروسہ) کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے “۔
“فبما رحمۃ من اللہ”میں جو فاء ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کا تعلق ما قبل کی آیات سے ہے جو جنگ احد میں بعض کی بد نظمی، بعض کے فرار اور تیسرے گروہ کی کار شکنی سے مربوط اور پیغمبر کی خوش اخلاقی اور نرم خوئی اور ان کے ساتھ پیغمبر کی مہربانی کو رحمت الٰہی کا نتیجہ قرار دیا ہے اس کے بعد (حرف شرط امتناعی) کے ذریعے جو کہ امتناع کے لئے استعمال ہوتا ہے فرماتا ہے : “بفرض محال اگر تم تند خو اور بد مزاج ہوتے تو سب تمھارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے ”
پیغمبر اسلام نے اس آیت سے سمجھ لیا کہ انہیں سبھی کے ساتھ حتی کہ ضعیف الایمان، منافقین، جنگ سے فرار کرنے والوں سے نرم خوئی اور مہربانی سے پیش آنا ہے حضرت رسول خداﷺ کی مرد یہودی کے ساتھ مہربانی اس آیت کریمہ کا مفاد ہے بہر حال یہ آیت گھر کے لوگوں یا کنیز و غلام سے سلوک کے سلسلہ میں نہیں ہے بلکہ ہر چیز سے پہلے اپنے دشمنوں سے بھی محبت آمیز روابط کی سفارش کرتی ہے اور پھر اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے دیگر کاموں میں بھی ان سے مشورہ کریں اور ان کے نظریات معلوم کریں۔
حضرت علی علیہ السلام اورایک یہودی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































