ابو العباس جو منصور کے دربار میں معزز درجہ رکھتا تھا۔ امام ابو حنیفہؒ کا دشمن تھا اور ہمیشہ ان کو ضرر پہنچانے کی فکر میں رہتا تھا۔ ایک دن امام صاحبؒ کسی ضرورت سے دربار میں گئے۔
اتفاق سے ابوالعباس بھی حاضر تھا۔ لوگوں سے کہا آج ابو حنیفہؒ میرے ہاتھ سے بچ کر نہیں جا سکتے۔ امام صاحبؒ کی طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ ’’ ابو حنیفہؒ !امیر المؤمنین یعنی خلیفہ منصور کبھی کبھی ہم لوگوں کو بلا کر حکم دیتے ہیں کہ اس شخص کی گردن مار دو۔ ہم کو مطلق معلوم نہیں ہوتا کہ وہ شخص واقعی مجرم ہے یا نہیں۔ایسی حالت میں ہم کو اس حکم کی تعمیل کرنی چاہئے یا انکار کر دینا چاہے؟امام صاحبؒ نے کہا’’
تمہارے نزدیک خلیفہ کے احکام حق ہو تے ہیں یا باطل؟ ‘‘ منصور کے سامنے کس کی تاب تھی کہ احکام خلافت کی نسبت ناجائز ہونے کا احتمال ظاہر کر سکتا۔ ابو العباس کو مجبوراً کہنا پڑا کہ حق ہوتے ہیں۔ امام صاحبؒ نے فرمایا تو پھر حق کی تعمیل میں پوچھنا کیا؟ پھر امام صاحبؒ نے اپنے قریب والوں سے فرمایا یہ آدمی مجھے باندھنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے ہی باندھ دیا۔



















































