حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے شب و روز گذرتے رہے۔ عالمِ اسلام میں تاتاریوں کے ظلم و ستم کی آندھیاں چلنے لگیں، جس سے پوری امتِ مسلمہ کا امن و سکون درہم برہم ہو گیا۔تاتاریوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی بربادی روزمرہ کے معمول بن گئے۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ ان ناگفتہ بہ حالات سے بے خبر نہ رہے اور خاموشی کے ساتھ ان بربادیوں اور تباہیوں کا جائزہ لیتے رہے آپ کے نیک اور صالح دل و دماغ پر دنیا کی بے رغبتی نقش ہوتی گئی اور امیروں اور دنیا داروں سے راہ و رسم کی بجائے فقیروں اور درویشوں کی صحبت اور خدمت کا شوق و ذوق پروان چڑھنا شروع ہوا۔ ایک دن ترکے میں ملے ہوئے باغ میں آپ درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ اس بستی کے ایک مجذوب ابراہیم قندوزی اشارۂ غیبی پر باغ میں تشریف لائے۔ جب حضرت خواجہ کی نظر اِس صاحبِ باطن مجذوب پر پڑی تو ادب و احترام کے ساتھ ان کے قریب گئے اور ایک سایا دار درخت کے نیچے آپ کو بٹھا دیا اور تازہ انگور کا ایک خوشہ سامنے لا کر رکھ دیا، خود دو زانو ہو کر بیٹھ گئے۔
حضرت ابراہیم قندوزی نے انگور کھائے اور خوش ہو کر بغل سے روٹی کا ایک ٹکڑا نکالا اور اپنے منہ میں ڈالا دانتوں سے چبا کر حضرت خواجہ غریب نواز کے منہ میں ڈال دیا اس طرح حق و صداقت اور عرفانِ خداوندی کے طالبِ حقیقی کو ان لذّتوں سے فیض یاب کر دیا۔ روٹی کا حلق میں اترنا تھا کہ دل کی دنیا بدل گئی۔روح کی گہرائیوں میں انوارِ الٰہی کی روشنی پھوٹ پڑی، جتنے بھی شکوک و شبہات تھے سب کے سب اک آن میں ختم ہو گئے، دنیا سے نفرت اور بے زاری پیدا ہو گئی اور آپ نے دنیاوی محبت کے سارے امور سے کنارہ کشی اختیار کر لی، باغ، پن چکی اور دوسرے ساز و سامان کو بیچ ڈالا، ساری قیمت فقیروں اور مسکینوں میں بانٹ دی اور طالبِ حق بن کر وطن کو چھوڑ دیا اور سیر و سیاحت شروع کر دی۔



















































