جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

سرنج کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں میں ایڈز کا پھیلائو بڑھ گیا

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سرکاری ہسپتالوں میں منشیات کے عادی افراد کے لئے کلینک نہ ہونے سے نشے کے عادی افراد کی تعداد بڑھنے لگی ۔ صوبائی دارلحکومت میںبڑی اور چھوٹی شاہریوں سمیت معروف تجارتی ماریکٹوں میں سرنج سے نشہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ۔پولیس،محکمہ صحت پنجاب،پنجاب ایڈزکنٹرول اور ضلع انتظامیہ کے حرکت میں نہ آنے کے باعث چھوٹی سے بڑی عمر کے نوجوان سرعام نشہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔جس کے نتیجے میں سرنج کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد میں ایچ آئی وی(HIV)ایڈز کا پھیلاؤ کئی گنا بڑھ گیا۔اس حوالے سے بتا یا گیا ہے کہ ہسپتالوںمیں استعمال ہونیوالی سرنج تلف ہونے کی بجائے کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے

والوں اور ویسٹ خریدنے والوں کو ملی بھگت سے فروخت کر دی جاتی ہیں ۔ میو،جنرل،گنگارام ،سروسز،جناح میں استعمال ہونیوالی زیادہ تر سرنج کاغزوں میں تلف کی جاتی ہے مگریہی سرنجزری سائیکل ہوتی ہیں اور مارکیٹ میں نشہ کرنیوالوں کو بھی مل جاتی ہے ۔ منشیات کے استعمال کاقومی سروے وقتا فوقتا صوبوں میں کیا جارہا ہے ۔جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں کثیر آبادی ہونے کی وجہ سے منشیات اور سرنج کے ذریعے نشہ آور اشیاء استعمال کرنے والوںکی سب سے زیادہ تعداد پائی جاتی ہے۔ صوبہ پنجاب میں منشیات استعمال کرنے

والے افراد کی تعداد 2.9ملین سے بڑھ چکی ہے جبکہ تقریباً260,000 لوگ سرنج کے ذریعے نشہ آور اشیاء استعمال کرتے ہیں۔پنجاب میں سب سے زیادہ چرس استعمال ہوتی ہے3.1)فیصد(۔سرنج کے ذریعے منشیات استعمال کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی اورخون سے پیداہونے والی بیماریوں میں مبتلاہونے کے خطرات بھی انتہائی زیادہ ہوتے ہیں۔یہ بات بھی مشاہدے میں نظر آرہی ہے پاکستان میں 15سے 64سال کی عمرکے لوگوں کا ایک بڑاحصہ کس طرح منشیات کے استعمال کے تباہ کن اثرات کا شکارہے۔

پاکستان میں منشیات کے استعمال کا سروے رپورٹ تیارکرنے والے نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن ، پاکستان ادارہ شماریات او راقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم کاکہنا تھا کہ اندازے کے مطابق تقریباً 4.5ملین افراد منشیات کے عادی ہیں لیکن علاج معالجہ اور خصوصی طبی اقدامات کی سہولیات کی کمی پائی جاتی ہے جبکہ یہ سہولیات سال میں30,000سے بھی کم افرادکو میسر ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ مختلف قسم کامنظم علاج معالجہ بھی مفت نہیں ہے۔ایک ایسا ملک جہاں کی ایک تہائی آبادی 1.25ڈالر یومیہ پر گزارہ کرتی ہووہاں منظم علاج تک رسائی کی راہ میں حائل رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…