اسلام آباد (آن لائن) معروف قانون دان سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ قطری شہزادہ حماد بن جاسم بن جابر الثانی کو سپریم کورٹ میں ’مطلوبہ شواہد‘ پیش کرنے ہوں گے اور پاناما پیپرز کیس میں خود کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا ورنہ ان کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے معروف وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’پاناما گیٹ کیس میں قطری شہزادے کے کا خظ کوئی قانونی وزن نہیں رکھتا ، انہیں سپریم کورٹ میں مطلوبہ شواہد پیش کرنے ہوں گے اور عدالت کے سامنے پیش بھی ہونا ہوگا‘۔انہوں نے کہا کہ قطری شہزادے کو سوالات کا سا مناکرنے کے لیے بذات خود عدالت میں پیش ہونا ہوگا یا پھر مجوزہ کمیشن کو ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے قطر جانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ قطری شہزادے کے خط کو کس طرح دیکھتی ہے لیکن قانون کی نظر میں یہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے بھی قطری شہزادے کے خط کو ’ردی کا ٹکڑا‘ قرار د یتے ہوئے کہا کہ اگر قطری شہزادے عدالت میں پیش ہوئے تو جرح کے دوران ان پر لرزاں طاری ہوجائے گا، 10 سوالوں کے بعد وہ کانپنے لگیں گے۔ واضح رہے کہ پاناما گیٹ کیس کی سپریم کورٹ میں آئندہ سماعت 30 نومبر کو ہوگی۔
’قطری شہزادے کے خط کی کوئی قانونی کیا ہے ؟ معروف قانون دان کے تہلکہ خیز انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پنجاب بھر میں سکولوں بارےاہم نوٹیفکیشن جاری
-
چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے
-
مسلم لیگ (ن)کو ایک مرتبہ پھر شدید سیاسی دھچکے کا سامنا
-
پی ٹی اے کا بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان
-
شدید سردی کی لہر؛سکولوں میں مزید چھٹیوں سے متعلق حکومت کا اہم بیان
-
موسم کا نیا سسٹم داخل، شدید سردی، بارش اور برفباری کی پیش گوئی
-
شاہد آفریدی کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل، وجہ کیا بنی؟
-
اقرار الحسن کی سیاسی جماعت کا نام اور پارٹی پرچم سوشل میڈیا پر مذاق بن گیا
-
ملک بھر میں رواں سال کے آغاز سے سولر پینلز کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی کر دی گئی
-
سعودی عرب کے غاروں میں قدرتی طور پر حنوط شدہ چیتوں کی پہلی دریافت
-
مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ ،دو سگے بھائی قتل
-
سٹیو سمتھ نے آخری گیند پر سنگل نہ لے کر بابر اعظم کو ناراض کرنے کی وجہ بتا دی
-
حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور کاروباری افراد کو ریلیف ملنے کا امکان















































