انگلستان کے بادشاہوں میں سے کینوٹ نامی نہایت رحمدل اور نیک مزاج بادشاہ گزرا ہے۔ اس کے امراء وزراء کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ خوشامد سے بادشاہ کو خوش رکھیں۔ ایک روز بادشاہ ساحل بحر پر امراء کے ساتھ ٹہل رہا تھا۔ امراء نے حسب دستور خوشامدانہ گفتگو شروع کی کہ آپ بڑے بھاری بادشاہ ہیں اور بحر و بر کے حاکم ہیں۔ کینوٹ نے کہا، کیا سمندر پر میرا حکم چلتا ہے؟ امراء نے کہا جہاں پناہ سلامت کیوں نہیں۔
کینوٹ نے اپنے ایک نوکر کو حکم دیا کہ کرسی لا کر پانی کے کنارے پاس بچھا دو۔ خود اس کرسی پر چڑھ گیا۔ اور چلا کر حکم دیا ’’اے سمندر! پیچھے ہٹ خبردار میرے پاؤں تر نہ کیجیو۔ میرے امراء نے مجھ سے کہتے ہیں کہ میرا حکم تجھ پر بھی چلتا ہے۔ اس واسطے تجھے میرا حکم ماننا لازم ہے مگر اس وقت جوار بھاٹا آ رہا تھا۔ لہریں کنارے کی طرف بڑھتی چلی آتی تھیں۔ تمام امراء چپکے کھڑے حیرت سے تماشہ دیکھ رہے
تھے۔ سب کو خیال تھا کہ بادشاہ دیوانہ ہو گیا۔ حکم دینے سے یہ سمندر بھلا کب مانتا ہے؟ بادشاہ نے امراء کی طرف مخاطب ہو کر کہا۔ ’’تم نے کہا کہ سمندر میرا حکم مانے گا مگر مجھے تمہاری بات کا اعتبار نہ تھا۔ میں بیشک بادشاہ ہوں۔ مگر بادشاہ بھی آخر انسان ہوتا ہے۔ اللہ ہی سمندر سے کہہ سکتا ہے کہ تو یہاں تک بڑھے گا اور آگے نہیں‘‘۔ یہ کہہ کر کینوٹ نے اپنا تاج اتارا اور پھر کبھی نہ پہنا۔



















































