ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

کس شخص نے شریف خاندان کوایک دم ’’زیرو‘‘ کردیا تھا سینئر سیاستدان کا حیران کن انکشاف

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور(آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما و سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ججز کو احساس ہونا چاہیے کہ بار ثبوت شریف خاندان پر ہے،عدالت موجودہ صورتحال میں یوسف رضا گیلانی کیس والا پیمانہ رکھے، قطری شہزادے کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، نوازشریف راہ فرار اختیار نہیں کرسکتے ،پیسے کی ترسیل کا ثبوت دینا تحریک انصاف کی نہیں شریف فیملی کی ذمہ داری ہے ، ذوالفقاربھٹو نے اپنے دور میں شریف خاندان کو ’’زیرو‘‘ کردیا تھا اس کے بعد ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟۔اتوار کو جہانگیربدر(مرحوم ) کے انتقال پر اہلخانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے پانامہ پر وکالت کر نے کے لئے مجھے رابطہ نہیں کیا ،حامد خان بہت اچھے اور تجربہ کار وکیل ہیں تاہم وقتا فوقتا بوقت ضرورت ان کو مشورہ دوں گا ۔انہوں نے کہاکہ میاں شریف زندہ ہوتے تو دستاویزات ان کے نام بنائی جاتیں، وہ نہیں اس لئے جاوید شفیع کے نام پر بے نامی دستاویزات بنائی گئیں،دستاویزات جعلی لگتی ہیں،ہر نئی دستاویز پچھلی سے تضاد رکھتی ہے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش کئے جانے والے قطری شہزادے کے خط کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں جب تک وہ عدالت میں پیش ہو کہ حلفا بیان نہیں دیتا۔قطری شہزادے کو خط پر وضاحت دینا ہوگی اور اگر شہزادے کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا تو10سوالوں پر اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں گی۔انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس بہت سادہ ہے اس میں اب کوئی پیچیدگی نہیں ،حکومتی ترجمانوں کے بیان سن کر ہنسی آتی ہے، پانامہ کیس کرپشن سے متعلق کیس ہے اور کرپشن کیسز کے لئے دنیا بھر میں قانون ہے ،ججز کو احساس ہونا چاہیے کہ بار ثبوت شریف خاندان پر ہے انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کو نااہل کیا گیا بالکل اسی طرح کا پیمانہ عدالت کو موجودہ صورتحال میں بھی استعمال کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ شواہد فراہم کرنے کی ذمہ داری اب تحریک انصاف کی نہیں مسلم لیگ(ن)کی ہے کیونکہ(ن)لیگ اور شریف برادران ملکیت تسلیم کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ احتساب کیلئے تیار ہیں انہیں عدالت میں پیش ہوکر اپنی بے گناہی ثابت کرنی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…