ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ ،جہازمیں کیا چیز سمگل کرکے پاکستان لائی گئی،انکشاف نے کھلبلی مچادی

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں گذشتہ دنوں تیل بردار ناکارہ بحری جہاز میں آگ لگنے کے نتیجے میں 25 افراد کی ہلاکت کے بدترین واقعے کی تحقیقات ایک نیا رخ اختیار کرگئی ہیں۔وزارت دفاعی پیداوار اور پورٹس اینڈ شپنگ کی وزارتوں کے حکام نے اپنی ابتدائی تحقیقات میں اس حوالے سے سوال اٹھایا ہے کہ جہاز توڑنے کے پس منظر میں اس میں موجود پیٹرولیم مصنوعات کو مبینہ طور پر اسمگل کیا گیا تھا۔ایک عہدیدار کے مطابق حکومت کی جانب سے دفاعی پیداوار کے وزیر رانا تنویر حسین کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی،

جس میں دفاعی پیداوار اور پورٹس اینڈ شپنگ کی وزارت کے ارکان بھی شامل تھے۔اس کمیٹی کو اپنی ابتدائی تحقیقات میں کچھ ایسے ‘شواہد’ ملے ہیں، جو اتنے بڑے آئل ٹینکر کو توڑنے کے مقاصد کے حوالے سے ‘سنگین شکوک وشبہات’ پیدا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اتنا بدترین حادثہ پیش آیا۔

اس ضمن میں پورٹس اینڈ شپنگ کے وزیر میر حاصل خان بزنجو نے بتایا، اس نتیجے پر پہنچنا کوئی بہت بڑی راکٹ سائنس نہیں ہے، ایک عام آدمی بھی بتاسکتا ہے کہ جہاز میں لگنے والی آگ، جسے بجھانے میں کئی دن لگے، جہازوں میں معمول کے مطابق موجود پیٹرولیم یا لبریکنٹس مصنوعات کی وجہ سے نہیں لگی، آگ کی شدت بہت زیادہ تھی اور سوال یہ ہے کہ آگ اتنی شدید کیوں تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ‘کمیٹی کی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف کو بھیجی جاچکی ہے اور فی الوقت اس کے نتائج کو سامنے لانا مناسب نہیں ہے، تاہم اس میں کچھ شوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے اور کچھ سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔میرحاصل خان بزنجو سے جب جہاز کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی مبینہ اسمگلنگ کے معاملے کی تحقیقات کا سوال پرکہاکہ تحقیقات کا دائرہ وسیع ہونے سے شپ بریکنگ یارڈ انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز کے عہدیداران کو بھی شامل تفتیش کیا جاسکتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ وفاقی وزیر نے کمیٹی کی تحقیقی رپورٹ مکمل ہونے کی تصدیق کردی ہے، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر)نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے نتائج کو عوام کے سامنے لایا جائے۔این سی ایچ آر کی جانب سے واقعے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے اہلخانہ کیلئے معاوضے کی فوری فراہمی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…