کریم خان ولی عہد ایران ایک روز ہجوم داد خواہاں اور فیصلہ مقدمات سے بہت تھک گیا۔ جب اٹھنے لگا تو ایک شخص نے فریاد کی کہ میرا مال چوری ہو گیا ہے، انصاف فرمایا جائے۔ کریم خان نے کہا ’’جب مال چرایا جا رہا تھا تو اس وقت کیا کر رہا تھا؟‘‘ اس نے کہا ’’میں سو رہا تھا‘‘ کریم خان نے کہا ’’تو کیوں سو رہا تھا؟‘‘ اس نے کہا ’’میں اس غلطی میں رہا کہ تُو جاگ رہا ہو گا(یعنی حفاظت رعایا کا مکمل انتظام ہو گا)۔ کریم خان اس برمحل حاضر جوابی سے خوش ہوا اور اس کے مال کی قیمت ادا کرنے کا حکم دیا اور کوتوال سے کہا کہ چور سے مال برآمد کرا کے اسے سزا کو پہنچانا تمہارا کام ہے۔
علامہ اقبالؒ نے غلط کو ’’ط‘‘ کی بجائے ’’ت‘‘ سے کیوں لکھا؟
علامہ موصوف کو جب ’’سر‘‘ (ناٹ ہڈ) کا خطاب گورنمنٹ کی طرف سے پیش کیا گیا تو انہوں نے اس خطاب کو قبول کرنے میں یہ شرط رکھ دی کہ ان کے استاد مولانا میر حسن کو بھی شمس العلماء کے خطاب سے سرفراز کیا جائے کہ ان کی یعنی مولانا کی سب سے بڑی تصنیف خود میں ہوں چنانچہ اس شرط کو پورا کیا گیا۔ بچپن میں استاد نے املا لکھائی تو علامہ اقبال نے غلط کو ’’ط‘‘ کی بجائے ’’ت‘‘ سے لکھا۔ استاد نے کہا ’’غلط‘‘ کا لفظ ط سے لکھا جاتا ہے۔ ’’علامہ اقبال نے کہاکہ غلط کو غلط ہی لکھنا چاہئے۔ حضرت اقبال مغفور سے کسی نے کہا ایک شخص نے آپ کے کلام میں کئی غلطیاں نکالی ہیں۔ اقبالؒ نے کہا ’’تو میں نے کب یہ دعویٰ کیا ہے کہ میرا کلام کلام مجید ہے جس میں کوئی غلطی نہیں‘‘۔



















































