کسی بادشاہ نے ایک ماہی گیر کو آٹھ ہزار اشرفی انعام دیں۔ اشرفیوں کے بھاری وزن کو اٹھاکر جب وہ چلنے لگا تو ایک اشرفی گر گئی۔ جس کو اس نے پشت پر زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے بڑی مشکل سے اٹھایا۔ بادشاہ نے یہ دیکھ کر نہایت خفا ہو کر کہا کہ آٹھ ہزار اشرفیوں کا گرانقدر انعام پا لینے کے بعد ایک اشرفی کے لالچ میں اس قدر تکلیف اٹھا رہے ہو۔ ماہی گیر نے عرض کیا ’’جہاں پناہ! اشرفی کا لالچ نہیں، بلکہ اشرفی پر حضور کے نام مبارک کی وجہ سے اس کی بے ادبی کا خیال ہے کہ پاؤں کے نیچے نہ روندا جائے‘‘۔ بادشاہ نے انعام مزید سے سرفراز اور زرفراز کیا۔
فقیر: باؤ جی اندھا ہوں، مجھے راہ مولا ایک روپیہ دے دو۔
باؤ: لیکن ایک آنکھ تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے۔
فقیر: تو پھر آپ آٹھ آنہ ہی دے دو۔
علامہ اقبالؒ نے غلط کو ’’ط‘‘ کی بجائے ’’ت‘‘ سے کیوں لکھا؟
علامہ موصوف کو جب ’’سر‘‘ (ناٹ ہڈ) کا خطاب گورنمنٹ کی طرف سے پیش کیا گیا تو انہوں نے اس خطاب کو قبول کرنے میں یہ شرط رکھ دی کہ ان کے استاد مولانا میر حسن کو بھی شمس العلماء کے خطاب سے سرفراز کیا جائے کہ ان کی یعنی مولانا کی سب سے بڑی تصنیف خود میں ہوں چنانچہ اس شرط کو پورا کیا گیا۔ بچپن میں استاد نے املا لکھائی تو علامہ اقبال نے غلط کو ’’ط‘‘ کی بجائے ’’ت‘‘ سے لکھا۔ استاد نے کہا ’’غلط‘‘ کا لفظ ط سے لکھا جاتا ہے۔ ’’علامہ اقبال نے کہاکہ غلط کو غلط ہی لکھنا چاہئے۔ حضرت اقبال مغفور سے کسی نے کہا ایک شخص نے آپ کے کلام میں کئی غلطیاں نکالی ہیں۔ اقبالؒ نے کہا ’’تو میں نے کب یہ دعویٰ کیا ہے کہ میرا کلام کلام مجید ہے جس میں کوئی غلطی نہیں‘‘۔



















































