ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

انور ظہیر جمالی اور شیخ رشید کے درمیان دلچسپ مکالمہ۔۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شیخ رشید کو سیاست چھوڑ کر کیاکام کرنے کا مشوردہ دیدیا ؟ دلچسپ خبر

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (آن لائن)پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا ۔شیخ رشید نے دوران سماعت کہا کہ آج قطر سے دستاویزات آئیں ہیں کل مہاتما گاندھی کی طرف سے آجائے گی جسکی تصدیق مودی نے کی ہو۔ جس پر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ لائر ہیں یا لائیر ہیں؟ آپ سیاست کے بجائے وکالت کرتے تو آپ ایک اچھے وکیل ہوتے میرا مشورہ ہے کہ آپ سیاست چھوڑ کر وکالت اختیار کرلیں جس پر شیخ رشید نے آپ کی تجویز پر غور کروں گا۔
دوسری جانب پانامہ لیکس معاملے پر وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ حسن اور حسین نواز پاکستان میں مقیم نہیں، مریم نواز کی جانب سے دستاویزات جمع کروا دی ہیں، وہ اپنے موکلین کی ایک دستاویز کے علاوہ تمام دستاویزات جمع کرارہے ہیں۔ اکرم شیخ نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ پاکستان سے کوئی پیسہ باہر نہیں گیا ، میاں شریف کے70کی دہائی میں صنعتی 6 یونٹ تھے، جن میں سے 5 یونٹ قومیالیے گئے ، گلف اسٹیل دبئی کے امیر راشد المکتوم کی مدد سے لگائی گئی، 1980 میں پہلے 75 فیصد پھر 25 فیصد حصص بیچے گئے۔اکرم شیخ نے استدعا کی کہ وہ قطر کے سربراہ کی دستاویز عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں، اس لیے بعض دستاویزات صرف عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اس دستاویز کی حساسیت کا پتا ہے، جو دستاویزات آپ نے دی ہیں وہ وزیراعظم کے پارلیمنٹ میں بیان کے برعکس ہیں، وزیر اعظم کے عوامی موقف میں اور آپ کے بیان میں فرق ہے، وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں کہا تھا جو بچا کچا سرمایہ تھا اس سے دبئی میں مل لگائی، دبئی والی مل فروخت کرکے عزیزیہ میں مل لگائی گئی، کیا قطر کے سابق وزیراعظم گواہی کیلئے عدالت آئیں گے۔ اگر یہ جمع کرائی گئیں تودوسرا فریق چاہے گا کہ وہ بھی اس کا مطالعہ کرے۔ اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ آپ کے پاس اس کے علاوہ بتانے کوکچھ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…