ایک عبادت گزار درویش دشوار گزار پہاڑیوں میں رہا کرتا تھا۔ اپنی ذات سے تن تنہا تھا۔ بیوی بچوں کا جھگڑا نہ پالا۔ تنہائی اس کی بیوی اور تنہائی اس کی اولاد تھی۔ عبادت الٰہی کی خوشبو میں دن رات مست رہتا اور دنیا پرست لوگوں کے نفس کی بدبو سے پریشان دماغ ہو جاتا تھا۔ ان پہاڑیوں کے دامن میں سرسبز اور شاداب جنگل تھے اور جنگل میں ہزارہا درخت پھلوں اور میووں کے تھے۔ اس درویش خدا مست کی خوراک وہی جنگلی پھل اور میوے تھے۔ ان چیزوں کے سوا اور کچھ نہ کھاتا تھا۔
ایک دن بیٹھے بٹھائے نہ جانے کیا خیال آیا کہ خدا سے ایک عجیب عہد باندھ لیا کہ اے میرے پروردگار، میں آئندہ ان درختوں سے نہ خود میوہ توڑوں گا نہ کسی اور سے درخواست کروں گا کہ مجھے توڑ کر دے۔ میں وہ پھل نہ کھاؤں گا جسے ڈالیاں زمین سے اونچا رکھیں۔ صرف وہی پھل اور میوہ میرے پیٹ میں جائے گا جو ہوا کے جھونکوں سے خود جھڑ کر زمین پر آن گرے۔ غرض یہ عہد اس مردِ درویش نے خدا سے کیا۔اب خدا کی قدرت دیکھو کہ پانچ دن گزر گئے۔ اس دوران میں کوئی سیب یا امرود درخت سے نہیں گرا۔ یہاں تک کہ بھوک کی آگ نے درویش کو بے قرار و مضطرب کر دیا۔ کسی پل چین نہ تھا۔ اسی عالم میں جنگل سے گزرتے ہوئے امرود کا ایک درخت دیکھا اس کی ڈالیوں پر زرد زرد، بڑے بڑے امرود لگے ہوئے تھے۔ وہ کھڑا ہو کر للچائی ہوئی نظروں سے امردوں کو تکنے لگا۔ جی میں آیا کہ ایک آدھ پھل توڑ کے کھا لے۔ لیکن صبر کیا اور اپنے آپ پر قابو رکھا۔ یکایک زور کی ہوا چلی۔ امردوں سے لدی ہوئی ایک ڈالی اتنی جھکی کہ زمین کہ چھونے لگی۔ مگر پھل زمین پر ٹوٹ کر نہ گرا۔ یہ منظر دیکھ کر درویش کا نفس بے قابو ہو گیا، معدے کے اندر سے ہوک اٹھی اور خدا سے جو عہد استوار کیا تھا وہ توڑنے پر تیار ہو گیا۔ فوراً ہاتھ بڑھا کر امرود توڑ لیا۔عہد کا ٹوٹنا تھا کہ غیرت خداوندی حرکت میں آئی۔ اس پہاڑی علاقے اور جنگل میں عرصہ دراز سے چوروں اور قزاقوں کا ایک گروہ رہتا تھا۔
شہروں اور بستیوں میں جا کر لوگوں کو لوٹتا اور واپس آن کر چوری کا مال آپس میں تقسیم کیا کرتا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اسی روز کسی مخبر نے کوتوال کو ان قزاقوں کے بارے میں اطلاع دی کہ فلاں پہاڑی درے میں بیٹھے مال غنیمت بانٹ رہے ہیں۔ کوتوال سپاہیوں کی ایک بڑی جماعت لے کر وہاں آیا، پہاڑی اور جنگل کا گھیرا ڈال کر سب چوروں کو اس درویش سمیت پکڑ کر ساتھ لے گیا اور ہاتھوں او رپیروں میں ہتھکڑیاں اور بیڑیاں ڈال کر قید خانے میں پھینک دیا۔
پھر ایک روز بادشاہ کے حضور میں پیش کیا۔ اس نے مقدمہ سن کر حکم سنایا کہ ہر چور کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے جائیں۔ جلاد نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں اسی وقت ہر چور کا بایاں پاؤں اور دایاں ہاتھ کاٹ ڈالا۔ انہی کے ساتھ درویش کا دایاں ہاتھ بھی کٹ گیا۔ ابھی جلاد اس کا پاؤں کاٹنے کے لئے تیار ہو رہا تھا کہ یکایک ایک گھوڑ سوار تیزی سے وہاں نمودار ہوا اور جلاد سے للکار کر کہا:’’ارے او مردود! ذرا دھیان دے اور دیکھ کہ یہ شخص بہت بڑا شیخ اور ابدال وقت ہے۔ تو نے کیوں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا؟ اب خدا کے عذاب کاانتظار کر‘‘۔
گھڑ سوار کی یہ بات سنتے ہی جلاد کے ہاتھ سے تلوار چھٹ گئی، عالم وحشت میں اپنے کپڑے تار تار کئے اور وہاں سے بھاگا۔ سیدھا کوتوال کے پاس گیا اور اسے حادثے سے آگاہ کیا۔ کوتوال کے ہوش ا ڑگئے۔ لرزاں و ترساں، برہنہ سر، برہنہ پا درویش کی خدمت میں ہاتھ باندھے حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے خدا کے مقبول بندے مجھے خبر نہ تھی کہ تو کون ہے۔ میں نے تجھ پر سخت زیادتی کی۔ اللہ مجھے معاف کر دے‘‘۔ درویش نے کہا ’’اے کوتوال، تیری اس میں کیا خطا ہے جو کچھ میرا حشر ہوا اس کا سبب میں خوب جانتا ہوں۔
میں نے اپنے پروردگار سے ایک عہد استوار کیا تھا لیکن میری بدنصیبی نے مجھ سے وہ عہد تڑوایا اور مجھے خدا کی عدالت میں دھکیل دیا۔ میں نے دیدہ دانستہ اپنا عہد توڑا، اس لئے سزا میں ہاتھ پر آفت آئی۔ ہمارا ہاتھ، ہمارا پیر، ہمارا جسم، ہماری جان، دوست کے حکم پر نثار ہو تو یہ شکایت کا نہیں شکر کا مقام ہے۔ تجھے ان حالات کی کیا خبر تھی۔ لہٰذا بے فکر رہ۔ تجھ سے کوئی مواخذہ نہ ہو گا۔ جو شخص پروردگار کائنات کے غلبہ حکمرانی سے واقف و آگاہ ہے اسے اپنے رب سے الجھنے کی کیسے جرأت ہو سکتی ہے؟‘‘
غرض اس درویش کو بصد احترام و عزت دوبارہ اسی جنگل میں پہنچا دیا گیا جہاں وہ مدت سے رہتا آیا تھا۔ ہاتھ کٹنے کے بعد اس کا نام ٹُنڈا درویش پڑ گیا تھا اور لوگ اسی نام سے اسے پکارتے تھے۔ ایک روز ایسا ہوا کہ کوئی شخص بے وقت اور بغیر اجازت درویش سے ملاقات کیلئے جھونپڑی میں گھس گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ درویش اپنے دونوں ہاتھوں سے خرقہ درویشی میں پیوند لگا رہا ہے۔ اس نے حیرت سے دانتوں میں انگلی دے کر کہا حضرت، یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ آپ کے تو دونوں ہاتھ صحیح سلامت ہیں۔ لوگوں نے خواہ مخواہ یہ اڑا رکھی ہے کہ خدانخواستہ آپ کا دایاں ہاتھ کٹا ہوا ہے‘‘۔
درویش نے کہا ’’ارے او میری جان کے دشمن، تو جھونپڑی میں بغیر اجازت کیوں آ گیا؟‘‘ اس نے مذامت سے جواب دیا کہ حضرت، آپ کی زیارت اور شوق ملاقات کے سبب یہ حماقت مجھ سے سرزد ہوئی۔ درویش نے اس کی یہ محبت اور خلوص دیکھ کر کہا کہ اب آ ہی گیا ہے تو ایک طرف بیٹھ جا۔ لیکن خبردار! جو کچھ تو نے دیکھا، اس کا ذکر میری زندگی تک کسی سے نہ کیجیو۔ اس شخص نے وعدہ کیا، مگر جھونپڑی کے باہر لوگوں کا ایک بڑا ہجوم کھڑا درزوں اور جھریوں سے جھانک رہا تھا اور اب سب پر درویش کی کرامت کا راز کھل گیا تھا۔
درویش نے دل میں کہا کہ اے میرے رب اس کی حکمت سے توہی خوب آگاہ ہے۔ جتنا میں اس کرامت کو عوام و خواص کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں، اتنا ہی تو اسے ظاہر کرتا اور پھیلاتا ہے۔اسی وقت درویش کو القا ہوا کہ سن، جب تیرا ہاتھ چوروں کے ساتھ کاٹا گیا، تب لوگوں نے تیرے بارے میں خیال کیا کہ تو بنا ہوا درویش تھا اور ہماری راہ میں مکرو فریب کا جال بچھائے بیٹھا تھا۔ اس لئے ہم نے تجھے رسوا کر دیا۔ یہ بات ہمیں منظور نہ ہوئی کہ لوگ یہ دیکھ کر بدنصیبی اور گمراہی میں گرفتار ہوں اور اللہ والوں کے بارے میں بدگمانیوں میں مبتلا رہیں۔
اس لئے ہم نے تیری یہ کرامت سب پر ظاہر کر دی۔ ضرورت کے وقت ہم تجھے ہاتھ عطا کر دیتے ہیں تاکہ یہ بدگمانی کے مریض لوگ بارگاہ الٰہی سے ناکام واپس نہ جائیں۔ ہم تو تجھے اس کرامت سے پہلے بھی اپنی ذات کا عرفان عطا کر چکے ہیں۔ اب جو یہ کرامت تجھے عطا ہوئی، یہ عام لوگوں کیلئے ہے اور یہ چراغ انہی کی خیرخواہی کے لئے روشن کیا گیا ہے۔ (درویش اس الہام کے بعد سجدے میں گر پڑا اور کہا کہ اے پروردگار، تو جو کرتا ہے، وہ عین حکمت ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ حکمت ہماری سمجھ میں نہ آئے)۔



















































