بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

پاکستانی امریکی انتخابات میں بھی آمنے سامنے, پی ٹی آئی اور ن لیگ میں کیا ہوتا رہا ؟حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں 

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لندن(آئی این پی )امریکی صدارتی انتخابات کے دوران پاکستانی جھلک دیکھنے کو نظر آئی ، وائٹ ہاؤ س پر اقتدار قائم کرنے کی جنگ جیسے مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے درمیان ہو رہی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عمران خان کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے سابق رکن شکایت کرتے نظر آئے کہ وہ کسی کی بات نہیں سنتے، چاہے اس میں ان کا خود ہی کا نقصان کیوں نہ ہو رہا ہو۔بالکل جس طرح جب عدالتیں عمران خان کے حق میں بات کرتی ہیں تو وہ ان کی تعریف کرتے ہیں اور جب فیصلہ پسند نہ آئے تو انگلیاں اٹھاتے ہیں اسی طرح کا رشتہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ایف بی آئی کے درمیان نظر آیا۔ہلیری کی ای میل کی تحقیقات کا اعلان ہوا تو وہ ایف بی آئی کے چیف کے قصیدے پڑنے لگے اور اب جب ہلیری کو ایک مرتبہ پھر بے قصور قرار دیا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے پرانا راگ پھر سے الاپنا شروع کر دیا ہے کہ یہ نظام ہی بدعنوان ہے۔ٹرمپ کے حامی کسی سروے، منطق یا حقائق کو تب تک سچ نہیں مانتے جب تک وہ ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوں۔ڈونلڈ ٹرمپ کوبھی لبرل امریکہ کی سیاسی بلوغت پر دھبہ بتا رہے ہیں۔تو دوسری طرف ہلیری کلنٹن کی مالی حیثیت وزیر اعظم نواز شریف کی طرح متنازع رہی۔ متعدد امریکی کلنٹن خاندان کے اثاثوں کو اسی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس طرح پاکستانی وزیر اعظم کے خاندان کے اثاثوں کو۔کسی حد تک امریکی عوام کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ سیکریٹری آف سٹیٹ کے طور پر کام کرنے والی ہلیری کلنٹن نے اپنا سرکاری عہدہ کلنٹن فانڈیشن کے فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا ہو گا۔ووٹنگ سے صرف ایک ہفتے پہلے ایف بی آئی کی جانب سے ای میلز کی تحقیقات دوبارہ کرنے کے بیان کے بعد جب متعدد سرویز میں ہلیری کی برتری کو دہچکہ پہنچا تو وہ غصے پر قابو نہ پا سکیں۔انھوں نے فورا ایف بی آئی پر سیاسی مداخلت کا الزام لگایا جسے بیشتر ماہرین نے نامناسب بیان قرار دیا۔بیشتر کے خیال میں کلنٹن کے ردعمل نے ریاستی اداروں پر انگلی اٹھانے کا موقع فراہم کر دیا ہے، اور جیت کی صورت میں یہ سوال بہی اٹہایا جا رہا ہے کہ آخر کلنٹن اور ایف بی آئی کے چیف مستبقل میں کیسے مل کر کام کریں گے۔40 فیصد امریکی پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں ۔ انتخابات کا نتیجہ تو بس اب آیا ہی چاہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکی سیاست اور جمہوریت پستی کی اس گہرائیوں سے نکل پائے گی جہاں اس انتخابی مہم نے اسے دھکیل دیا ہے؟

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…