جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور،معروف عالم دین انتقال کرگئے

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)بزرگ عالم دین ،جامعہ انوارالقرآن کے مہتمم اور جے یو آئی کے رہنماء مولانا قاری مقبول الرحمن کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا مرحوم کا گذشتہ روز انتقال ہوا تھا ۔جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مو لا نا فضل الرحمن نے ممتاز عالم دین اور جامعہ ا شرفیہ کے سابق صدر مفتی اور جامعہ حمیدیہ کے مہتمم حضرت مو لا نا مفتی حمیداللہ جان بزرگ عالم دین مولانا قاری مقبول الرحمن کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہا کیاہے انہوں نے کہاکہ مر حوم مفتی حمید اللہ کی وفات سے علمی ،دینی حلقے ایک محقق عالم دین سے محروم ہوگئے ہیں
انہوں نے کہاکہ مر حومین نے ساری عمر دین اسلام کی اشاعت کے لیئے گذاری انہوں نے کہا کہ مر حومین کی دینی ،ملی خدمات مدتو ں یاد رہیں گی انہوں نے لکی مروت میں مر حوم کے صاحبزادوں اور خاندان جملہ استاذہ اور متعلقین سے دلی تعزیت کی اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیئے دعا کی ۔جے یو آئی کے قائم مقا م سیکر ٹری جنرل مولانا محمد امجد خان نے بھی مو لا نا مفتی حمید اللہ جان اورقاری مقبو ل الرحمن کی وفات پر دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحومین نے ساری زندگی قر آن و حدیث پڑھنے پڑھانے میں گذار ی مولانا قاری مقبو الرحمن کی وفات دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مر حومین بے پنا ہ خوبیوں کے مالک تھے انہوں نے کہا ہے کہ مر حومین کی دین اسلام کی اشاعت اور وطن عزیز میں اسلام کے نفاذ کے خد مات ہمیشہ یاد رکھیں جا ئیں گی انہوں نے مر حومین کے درجات کی بلندی اور خاندانوں کے لیئے صبر کی دعا کی۔جے یو آئی کے دیگر راہنماؤں مولانا محب النبی ،مولانا نعیم الدین ،مولانا رشید میاں ،حا فظ اشرف گجر ،حا فظ عبد الودود شاہد،قاری مشتاق احمد ،حافظ فہیم الدین،مولانا سلیم اللہ قادری ،مفتی عقیل احمد ،قاری نذیر احمد ،حا فظ عبد الواجد،حا فظ غضنفر عزیز ،صاحبزادہ محمود میاں نے مو لا نا مفتی حمید اللہ جان اور قاری مقبول الرحمن کی وفات کو علمی اور دینی حلقوں کوعظیم سانحہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خلا مدتوں پورا نہیں ہو سکے گا انہوں نے کہا کہ مر حومین سچے عاشق رسول تھے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…