جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

لاہور،معروف عالم دین انتقال کرگئے

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی)بزرگ عالم دین ،جامعہ انوارالقرآن کے مہتمم اور جے یو آئی کے رہنماء مولانا قاری مقبول الرحمن کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا مرحوم کا گذشتہ روز انتقال ہوا تھا ۔جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مو لا نا فضل الرحمن نے ممتاز عالم دین اور جامعہ ا شرفیہ کے سابق صدر مفتی اور جامعہ حمیدیہ کے مہتمم حضرت مو لا نا مفتی حمیداللہ جان بزرگ عالم دین مولانا قاری مقبول الرحمن کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہا کیاہے انہوں نے کہاکہ مر حوم مفتی حمید اللہ کی وفات سے علمی ،دینی حلقے ایک محقق عالم دین سے محروم ہوگئے ہیں
انہوں نے کہاکہ مر حومین نے ساری عمر دین اسلام کی اشاعت کے لیئے گذاری انہوں نے کہا کہ مر حومین کی دینی ،ملی خدمات مدتو ں یاد رہیں گی انہوں نے لکی مروت میں مر حوم کے صاحبزادوں اور خاندان جملہ استاذہ اور متعلقین سے دلی تعزیت کی اور مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیئے دعا کی ۔جے یو آئی کے قائم مقا م سیکر ٹری جنرل مولانا محمد امجد خان نے بھی مو لا نا مفتی حمید اللہ جان اورقاری مقبو ل الرحمن کی وفات پر دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحومین نے ساری زندگی قر آن و حدیث پڑھنے پڑھانے میں گذار ی مولانا قاری مقبو الرحمن کی وفات دلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مر حومین بے پنا ہ خوبیوں کے مالک تھے انہوں نے کہا ہے کہ مر حومین کی دین اسلام کی اشاعت اور وطن عزیز میں اسلام کے نفاذ کے خد مات ہمیشہ یاد رکھیں جا ئیں گی انہوں نے مر حومین کے درجات کی بلندی اور خاندانوں کے لیئے صبر کی دعا کی۔جے یو آئی کے دیگر راہنماؤں مولانا محب النبی ،مولانا نعیم الدین ،مولانا رشید میاں ،حا فظ اشرف گجر ،حا فظ عبد الودود شاہد،قاری مشتاق احمد ،حافظ فہیم الدین،مولانا سلیم اللہ قادری ،مفتی عقیل احمد ،قاری نذیر احمد ،حا فظ عبد الواجد،حا فظ غضنفر عزیز ،صاحبزادہ محمود میاں نے مو لا نا مفتی حمید اللہ جان اور قاری مقبول الرحمن کی وفات کو علمی اور دینی حلقوں کوعظیم سانحہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ خلا مدتوں پورا نہیں ہو سکے گا انہوں نے کہا کہ مر حومین سچے عاشق رسول تھے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…