بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

سچی محبت: ایک فلپینی عورت کا واقعہ

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

تحریر (احمد غنی )

کچھ واقعات پڑھ کر انسان کے ذہن پر ایک گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ایسے ہی ایک واقعہ آج کسی عربی اخبار میں پڑھ کر ہوا۔ واقعہ کچھ یوں تھا۔کہ سعودی ایک شخص نے فلپینی کسی عورت سے چھپ کے شادی کی تھی۔کیونکہ وہ پہلے ہی شادی شدہ تھا۔اور پہلی بیوی کیساتھ اولاد بھی تھیں۔جب اس شخص کو بیماری لاحق ہوئی تو اس نے اپنے پہلے بیوی کیساتھ جو اولاد تھیں.
.
۔ان کو وصیت کیلئے جمع کیا اور ان میں سے اپنے بڑے بیٹے کو بتایا۔۔بیٹا میں نے چھپ کے فلپینی کسی عورت سے بھی شادی کی ہوئی ہے۔میرے بعد ان کا خیال رکھنا۔اور وراثت میں انکو بھی حق دینا۔اور ساتھ ہی انکا مکمل پتہ بھی دیا۔جہاں وہ رہتی تھی۔۔۔کچھ دن بعد وہ شخص وفات پاگیا تو انکے بیٹے قاضی کے پاس گیا۔اور پوری تفصیلات بتا دی۔قاضی نے فیصلہ رکوادیا اور حکم دی فلپینی عورت کو بھی یہاں پیش کریں۔تو بڑے بیٹے اپنے والد مرحوم کے دیئے ہوئے ایڈریس کے مطابق فلپین پہنچا۔ بڑی مشکل سے اس گلی میں پہنچا جہاں وہ رہتی تھی۔دوسری طرف وہ عورت جو اس کے والد کی زوجہ تھی۔انہیں دیکھ کر ہی بتا دیا۔میں وہی عورت ہوں۔جو تو تلاش کر رہا ہے۔اور مجھ تک یہ خبر بھی پہنچی ہے کہ میرا شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔تو بیٹے نے بھی ساری تفصیلات بتادی اور انکو سعودیہ کی طرف سفر کے لئے قائل کیا ۔اور اپنی دوسری ماں کو لیکر سعودی پہنچے اور سیدھا قاضی کے پاس گئے تو اس عورت کی حصے میں 8 لاکھ ریال آیا۔(جو ہندستانی روپیوں میں تقریبا 1.5 کروڑ کے لگ بھگ بنتے ہیں ) اور ساتھ ہی قاضی نے حکم دیا انکو عمرہ کی ادائیگی کے بعد فلپین روانہ کیا جائے۔ بڑے بیٹے نے ایسا ہی کیا۔۔۔!!اس کے واقعہ کے ٹھیک چار سال بعد بڑے بیٹے فلپین اپنے دوسری ماں سے ملنے اور حال احوال پوچھنے کی غرض سے گیا تو وہاں پہنچ کر اس کو بہت تعجب ہوا۔اور اس سے کہا ماں جی آپ کو اتنی بڑی رقم وراثت ملنے کے باوجود وہی پرانے خستہ حال مکان میں رہ رہی ہے۔؟!

ماں جی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ایک جگہ پر لے گئی۔جہاں *ایک بڑا اسلامی ادارہ قائم تھا۔وہاں حفظ القرآن کا شعبہ بھی تھا اور یتیم خانہ بھی۔۔۔ ماں جی نے کہا بیٹا سر اٹھا کر ادارے کے بورڈ کی طرف دیکھنا۔۔۔ بورڈ دیکھ کر بیٹے کی آنکھوں میں آنسو امڈ آیا۔کیوں کہ بورڈ پر انکے والد کا نام لکھا ہوا تھا۔اس نیک صفت عورت نے کہا میں نے یہ ادارہ اپنے وراثت کے پیسے سے بنایا ہے اور اپنے شوہر کے نام پر وقف کیا ہے۔

تاکہ ان کو اس ادارے کی وجہ سے ثواب ملتا رہے۔یہ تھی سچی محبت ورنہ اس پیسے سے وہ ایک عالی شان بنگلہ بھی بنا سکتی تھی۔پر انہوں نے سوچا محبت کے مقابلے میں عالی شان بنگلہ کی کیا حیثیت بنگلہ تو عارضی چیز ہے البتہ یہ اسلامی ادارہ انکو اور انکے شوہر کو آخرت میں کام آئیگی۔۔۔۔!!!!*جب بیٹا سعودیہ واپس آیا تو اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی اس بارے آگاہ کیا۔تمام بھائی اس رات جاگتے رہے۔

اور *باہم مل کر چندہ جمع کیا۔ اسی ایک رات میں 5 ملین ریال اپنے والد مرحوم سے منسوب اس ادارہ کیلئے انہوں نے چندہ جمع کیا۔جس کو انکی دوسری ماں نے انکے والد سے بے لوث محبت کی بنیاد پر قائم کی تھی۔۔۔!!*سبحان اللہ*فی زمانہ رئیسوں کی اولادیں وراثتی رقم کے حصول کے لئے اپنے والدین کے مرنے کا انتظار کرتی ہیں اور سچی محبت کرتے ہیں اپنے مرنے والے کو توشئہ آخرت بھیجنے کی فکر میں رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…