پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

عائشہ ممتاز نے کس پر ہاتھ ڈالا تھا؟ عہدے سے برطرفی کی اصل کہانی منظر عام پر

datetime 21  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈائریکٹرجنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نے عائشہ ممتاز کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ رافعہ حیدر کو ڈائریکٹر آپریشن فوڈ اتھارٹی تعینات کر دیا۔ تفصیل کے مطابق عائشہ ممتاز نے مبینہ طور پر غیر معیاری دودھ بنانے والی دو عدد فیکٹریان سیل کی تھیں۔ دودھ کی فیکٹریاں سیل کرنے پر عائشہ ممتاز اور ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کے درمیان سرد جنگ جاری تھی۔ ذرائع کے مطابق ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی عائشہ ممتاز کیخلاف کاروباری طبقات اور دفتر سٹاف کی جانب سے متعدد شکایات ملی تھیں۔ ذرائع کے مطابق ڈی او ایف رافعہ حیدر کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ذرائع نے مزیدبتایا کہ ڈی جی فوڈ اتھارٹی اورعائشہ ممتاز کے درمیان مختلف معاملات میں مبینہ طورپرسرد جنگ بھی چل رہی تھی۔دوسری جانب عائشہ ممتازکے مطابق انہوں نے104 دن کی رخصت لی ہے،عائشہ ممتاز نے کہا کہ ان کا کسی بھی کیس سے کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی یہ وجوہات ہیں جس کی بناء پر خبریں دی جا رہی ہیں۔ عائشہ ممتاز نے کہا کہ میں نے نجی مصروفیات کی بناء پر104 روز کی چھٹی لی ہے۔
دوسری جانب دبنگ انٹری سے جانے والی عائشہ ممتاز کے بارے میں خبریں گردش کر رہیں کہ انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ، تفصیلات کے مطابق عائشہ ممتاز کو ہٹانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کا افسران کے ساتھ سلوک ٹھیک نہیں ہے لہٰذا انہیں عہدے سے سکبدوش کاکیا گیا ہے۔ عائشہ ممتاز بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا دوران سرچ آپریشن اعلی عہدیدارن اور متعلقہ لوگوں سے بات کرنے کا طریقہ کار اور نازیبا زبان کا استعمال بتایا جارہا ہے ۔
واضح رہے کہ اسے قبل انچارج رمضان بازار گلبرگ غلام سرور نے ڈائریکٹر آپریشنز پنجاب فوڈ اتھارٹی عائشہ ممتاز کو 10کروڑ روپے ہرجانے کا لیگل نوٹس بھجوا یا تھا ۔لیگل نوٹس کے متن میں درج تھا کہ عائشہ ممتاز نے دخل اندازی کرتے ہوئے دکاندار کو چھڑانے کی کوشش کی اور کارروائی کا کریڈٹ خود لینے کیلئے ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالی تھی ۔ علاوہ ازیں مدعی غلام سرور نے مزید بیان کیا کہ عائشہ ممتاز نے ان سے بد تمیزی بھی کی لہٰذا غلام سرور نے ان سے 10کروڑ روپے ہرجانے کے ساتھ ہی معافی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ کچھ دن قبل محکمہ لائیو سٹاک، عائشہ ممتاز اور انچارج رمضان بازار غلام سرور کے مابین پانی ملا گوشت پکڑنے کا کریڈٹ لینے پر تنازع ہوگیا تھا۔ محکمہ لائیو سٹاک کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے ہم نے انسپکشن کرتے ہوئے پانی ملا گوشت پکڑا جبکہ رمضان بازار کے انچارج غلام سرور کا کہنا تھا کہ دکاندار پانی ملا گوشت لایا جو ہم نے پکڑا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…