پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

حاسد کا عبرت ناک انجام

datetime 21  اکتوبر‬‮  2016 |

ایک نیک شخص کسی بادشاہ کے پاس نصیحت کرنے کے لئے بیٹھا کرتا تھا اوروہ اس سے کہاکرتا.:”اچھے لوگوں کے ساتھ ان کی اچھائی کی وجہ سے اچھا سلوک کرو کیونکہ برے لوگوں کےلئے ان کی برائی ہی کافی ہے۔”.ایک جاہل درباری کو اس نیک شخص کی (بادشاہ سے) اس قربت پربہت حسد تھا تو اس نے اس کے قتل کی سازش تیار کی اور بادشاہ سے کہا :.”یہ شخص آپ کوبدبودار سمجھتا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ

آپ کل اس کو اپنے زیادہ قریب کیجئے گا جب یہ آپ کے قریب ہوگا تو وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لے گا تا کہ آپ کی بدبو سے بچ سکے۔” بادشاہ نے اس سے کہا: ”تم جاؤ میں خود اسے دیکھ لوں گا۔” یہ سازشی وہاں سے نکلا اور اس نیک شخص کواگلے دن اپنے گھر دعوت پر بلا کر لہسن کھلا دیا، وہ نیک آدمی وہاں سے نکل کر بادشاہ کے پاس آیا اور حسبِ عادت بادشاہ سے کہا:” اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ برے کوعنقریب اس کی برائی ہی کافی ہو گی۔” توبادشاہ نے اس سے کہا :”میرے قریب آؤ۔” وہ قریب آیا تو اس نے اس خوف سے اپنی ناک پر ہاتھ رکھ لیا کہیں بادشاہ لہسن کی بو نہ سونگھ لے، تو بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ فلا ں آدمی سچ کہتا تھا۔ اس بادشاہ کی عادت تھی کہوہ کسی کے لئے اپنے ہاتھ سے صرف انعا م دینے کاہی فرمان لکھا کرتا تھا، لیکن اب کی بار اس نے اپنے ایک گورنر کو اپنے ہاتھ سے لکھا کہ”جب میرا خط لانے والایہ شخص تمہارے پاس آئے تو اسے قتل کر دینا اور اس کی کھال میں بھوسہ بھر کر میرے پاس بھیج دینا۔” اس نیک شخص نے وہ خط لیا اور دربار سے نکلا تو وہی سازشی شخص اسے ملا، اس نے پوچھا: ”یہ خط کیسا ہے؟” نیک شخص نے جواب دیا :”شائد بادشاہ نے مجھے انعام لکھ کر دیا ہے۔’

‘ سازشی شخص نے کہا: ”یہ مجھے ہبہ کر دو۔” تو اس نیک شخص نے بخوشی کہا: ”تم لے لو۔” پھرجب وہ شخص خط لے کر عامل کے پاس پہنچا تو اس عامل نے اس سے کہا :”تمہارے خط میں لکھا ہے کہ میں تمہیں قتل کر دوں اور تمہاری کھال میں بھوسہ بھر کر بادشاہ کو بھیج دوں۔” اس نے کہا :”یہ خط میرے لئے نہیں ہے میرے معاملہ میں اللہ عزوجل سے ڈرو تا کہ میں بادشاہ سے رابطہ کر سکوں۔

” تو عامل نے کہا: ”بادشاہ کا خط آنے کے بعد اس سے رجوع نہیں کیا جا سکتا۔” لہٰذا عامل نے اسے قتل کر کے اور اس کی کھال بھوسے سے بھر کر بادشاہ کو بھیج دی، پھر وہی نیک شخص حسبِ عادت بادشاہ کے پاس آیا اوراپنی بات دہرائی:” اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔” تو بادشاہ نے حیرت زدہ ہو کر اس سےپوچھا: ”تم نے خط کا کیا کیا؟” اس نے جواب دیا : ”مجھے فلاں شخص ملا تھا ،اس نے مجھ سے وہ خط مانگا

تو میں نے اسے بخوشی اسے دے دیا۔” تو بادشاہ نے کہا :”اس نے تو مجھے بتا یا تھا کہ تم کہتے ہو کہ میرے جسم سے بُو آتی ہے۔” تو اس نیک شخص نے جواب دیا کہ ” خدا جانتا ہے میں نے تو ایسا نہیں کہا۔” پھر بادشاہ نے پوچھا :”تم نے اپنی ناک پر ہاتھ کیوں رکھا تھا؟” اس نے بتایا :”اسی شخص نے مجھے لہسن کھلا دیا تھا اور میں نے پسند نہ کیا کہ آپ اس کی بو سونگھیں۔” بادشاہ نے کہا: ”تم سچے ہو اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ جاؤ،

برے آدمی کی برائی اسے پہنچ چکی ہے۔”دوستوں !اللہ عزوجل ہم پر رحم فرمائے حسد کی برائی میں غور کرو۔نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمانِ عالیشان کی حقیقت جانو : ”اپنے بھائی کی پریشانی پر خوشی کا اظہار مت کرو کہیں اللہ عزوجل اسے اس سے نجات دے کر تمہیں اس میں مبتلا نہ فرما دے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…