جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کو بادشاہ کیوں کہا جاتا ہے؟ اپوزیشن لیڈر نے بڑا دعویٰ کر دیا

datetime 14  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہاہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہمیشہ عدلیہ کو ٹف ٹائم دیتی رہی ہے، اسی وجہ سے وہ نواز شریف کو بادشاہ کہتے ہیں۔ سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتر پائی، ماضی کے انتخابات میں ٹھیک کام نہ کرنا بھی ہماری کمزروی تھی اور پولیس میں بھی سیاسی مداخلت رہی ہے لیکن اب ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا ہم اس کا ازالہ کریں گے۔پیپلز پارٹی پنجاب میں عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتر پائی، ماضی کے انتخابات میں ٹھیک کام نہ کرنا بھی ہماری کمزروی تھی، پولیس میں سیاسی مداخلت رہی، موجودہ حکومت نے پہلے بھی میڈیا پر قدغن لگائی اوراب بھی ایسا کررہی ہے، چوہدری نثار کو پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہیے کہ اتنے اہم اجلاس کی باتیں باہر کیسے آئیں۔انگریزی اخبار کی خبر کی بنیاد پر صحافی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پہلے بھی میڈیا پر قدغن لگائی اوراب بھی ایسا کررہی ہے، چوہدری نثار کو پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنا چاہیے کہ اتنے اہم اجلاس کی باتیں باہر کیسے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہمیشہ عدلیہ کو ٹف ٹائم دیتی رہی ہے اسی وجہ سے وہ نواز شریف کو بادشاہ کہتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ لندن کے بانی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ خارج ہونے پر خورشید شاہ نے کہا کہ ایم کیوایم کے بانی پر منی لانڈرنگ کیس ختم ہونے پر ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ اسکاٹ لینڈیارڈ کا معاملہ ہے۔
جبکہ اس سے قبل خورشید شاہ کی تقریر میں برہان وانی اورکلبھوشن یادیوایک ہی ہوگئے،ناقابل یقین صورتحال،تقریر کے دوران اس وقت حیرت انگیز صورتحال پیدا ہوگئی جب خورشید شاہ وزیراعظم کے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے شدید تنقید جاری رکھے ہوئے تھے دوران تقریر خورشید شاہ نے ایک موقع پر کلبھوشن یادیو اور برہان وانی کے نام ایک کردیئے، معلوم یوں ہورہاتھا کہ وہ کلبھوشن یادیو اور برہان وانی میں کوئی فرق ہی نہیں کرسکتے یا پھر ان میں فرق کو جانتے ہی نہیں۔اس موقع پر خورشید شاہ کے حیرت انگیز انداز بیان پر ارکان اسمبلی سمیت تمام دیکھنے والے ششدر رہ گئے



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…