پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

’’ نواز ‘‘ جمہوریت صرف پٹواری اور دربار یوں کو ہی نظر آتی ہے‘ ‘سینئررہنمانے بڑی دھمکی دیدی

datetime 13  اکتوبر‬‮  2016 |

لاہور (این این آئی )پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الر شید نے کہا ہے کہ ’’ نواز ‘‘ جمہوریت صرف پٹواری اور دربار یوں کو ہی نظر آتی ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے جو صرف حکومت اور اسکے چند دربار یوں کو نظر آتی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان سمیت ایک عام آدمی کو دور بین سے بھی نظر آتی ہے اور نہ ہی جمہوریت کے تمر ات اس تک پہنچ رہے ہیں، 30اکتوبر کو جمہوریت نہیں درحقیقت حکمرانوں کی کرپشن، لوٹ مار کو خطرات لاحق ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پنجاب پبلک سیکرٹریٹ میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے 22کروڑ عوام کی ترجمانی کی، ملک میں واقعی جمہوریت نہیں بادشاہت ہے جمہوریت کے نام پر عوام کا مذاق اڑایااور لوٹ مار ہور ہی ہے۔انہوںنے کہاکہ اسی نظام کیخلاف تحریک انصاف سڑکوں پر ہے۔کرپشن پر بات کریں تو حکمران کہتے ہیں جمہوریت خطرے میں پڑ گئی لیکن جب ایک سپیکر اپنے وزیر اعظم کیخلاف ریفرنس کی بجائے درخواست دہندہ کی نا اہلی کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بجھو ا دے، جب حکمران عوام کے ٹیکس کا پیسہ اپنی سکیورٹی اور آف شور کمپنیوں پر لگا دیں جب ایک عام آدمی انصاف، تعلیم، صحت، روزگار جیسی بنیادی حقوق سے محروم ہو تو تب جمہوریت کو کیوں خطرہ نہیں ہوتا؟ اپوزیشن لیڈر نے خورشید شاہ کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ قوم جانتی ہے کس کو کون فائدہ پہنچا رہا ہے اور کرپشن بچانے میں کون شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنا ہوا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں تا ہم پا نا مہ لیکس پر جواب لئے بغیر کارروائی نہیں چلنے دی جائے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…