جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی نوجوانوں کیلئے شاندار خبر، حکومت نے خوشخبری سنا دی

datetime 11  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی حالات اور سی پیک منصوبہ پاکستان چین دوستی کا نیا سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔ اس دوستی کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے پنجاب حکومت نے چینی زبان سکھانے کے لیے پاکستانی طلبہ کو چین بھجوا نے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پاکستانی طلبا کو چینی زبان سکھانے کے لیے چینی حکومت کی مدد سے سکالرشپ کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 130 طلبا کو چینی زبان سکھانے کے لیے چین بھیجا جائے گا۔چیف منسٹر چائنیز لینگوئج سکالرشپ کے تحت 39 طالب علم بیجنگ پہنچ گئے۔دیگر طلبا کو چینی زبان سکھانے کے لیے چین کے دوسرے شہروں میں بھیجا جائے گا۔ بیجنگ پہنچنے والے طلبا نے بتایا کہ وہ چینی زبان کا 2 سالہ کورس مکمل کرنے کے بعد پاکستان جا کرسی پیک منصوبے کے لیے کام کریں گے۔ ہر طالب کو کورس کے دوران ماہانہ 2800 چینی یوان دیے جائیں گے۔دوسری جانب پاکستانی صحافیوں کا ایک وفد بھی چینی حکومت کی دعوت پر چین کے دورے پر ہے۔ جسے قبلائی خان کی تعمیر کردہ دیوار چین کی سیر کرائی گئی۔
جبکہ دوسری جانب سائبر سپیس سکیورٹی انٹر نیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی چین کی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور چین اس میدان میں خود کو دنیا کی بڑی انٹرنیٹ طاقت کے طور پر سامنے لانا چاہتا ہے ، یہاں ایک مطالعاتی اجلاس کے دوران جس میں چین کی اعلیٰ قیادًت موجود تھی ، چین کے صدر شی جن پنگ نے انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر سپیس سکیورٹی میں مزید ترقی کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ چین اگرچہ انٹر نیٹ کی دنیا میں تاخیر سے شامل ہوا ہے لیکن انٹر نیٹ ورک اور خدمات کے سلسلے میں گذشتہ دو عشروں کے دوران نمایاں ترقی کی ہے ، چین میں 2015ء میں الیکٹرانکس انفارمیشن تیار کرنے والی صنعت کاحجم 11.1ٹریلین یوآن (1.66ٹریلین امریکی ڈالر ) تھا جبکہ اب ملک 3.9ٹریلین یوآن کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس مارکیٹ بن چکا ہے ۔اعدادو شمار کے مطابق اس وقت 700ملین چینی انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں جو کہ چین کو دنیا کا سب سے بڑا آن لائن ملک بنا سکتے ہیں تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ دو دھاری تلوار ہیں اورچین سائبر سپیس انتظامیہ کو بہتر طورپر استعمال کرنے کی ہدایت کرتا ہے تا کہ ملک میں مثبت اورصحت مند سائبر کلچر فروغ پا سکے تا کہ ہم سائبر کرائم کیخلاف موثر طورپر جدوجہد کر سکیں



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…