لاہور ( این این آئی) قائد حزب اختلاف میاں محمود الر شید نے اسلام آباد میں ایٹمی طاقت ہونے کی نشانی یادگار چاغی پہاڑ کو گرائے جانے کیخلاف مذمتی قرار داد پنجاب اسمبلی جمع کرادی۔ اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کی نشانی یاد گار چاغی پہاڑ کے ماڈل کو مسامار کر دیا گیا ہے، شہریوں میں اس حوالے سے سخت بے چینی پائی جا رہی ہے اور اسلام آباد میں اس حوالے سے مختلف چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ (ن)لیگ کی حکومت میں چاغی پہاڑ کے ماڈل کو گرانے کا مطلب کیا ہے؟ ۔انہوں نے کہا کہ کیا حکومت غیر ایٹمی پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں یا کسی بیرونی آقا کی ایماء پر ایسا کیا گیا ہے۔ قرار داد میں مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت قوم کو اس بات پر وضاحت دے کہ کس کو خوش کرنے کیلئے ایسا اقدام اٹھایا گیا اورعوام کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے دوبارہ یاد گار کوایف نائن کی بجائے فیص آباد کے قریب اسی مقام پر تعمیر کرے۔ بعد ازاں پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میاں محمود الر شید نے کہا کہ جب بھارت سرحد پر جارحیت کرتا ہے اور دو فوجی جوانوں کو شہید کرتا ہے عین اسی وقت ہی کیوں یادگار کو ہٹایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں جس پر قوم پریشان ہے اورنوازشریف حکومت سے اس کا جواب چاہتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کارکنوں کو 30 اکتوبر کیلئے تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے کارکنوں کو کہا ہے کہ وہ رہائش کیلئے عارضی انتظامات بھی کرکے لائیں۔اس سے قبل نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ نگار نے کہاتھا کہ 30 اکتوبر کو اتوار ہے جس دن اسلام آباد پہلے سے ہی بند ہوگا لیکن یہ مت سمجھا جائے کہ عمران خان اسلام آباد کو صرف ایک دن کیلئے بند کرنے جا رہے ہیں۔ سینئر تجزیہ نگار نے کہا کہ عمران خان نے بڑے واضح الفاظ میں یہ بتایا ہے کہ جب تک وہ نواز شریف سے استعفیٰ نہیں لیتے تو وہ اسلام آباد سے واپس نہیں جائیں گے۔ سینئر تجزیہ نگار حامد میر نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اپنے تمام رہنماؤں کو کہہ دیا ہے کہ وہ جو لوگ ساتھ لائیں گے، ان کا 4,5 دن کارشن پانی ساتھ لے کر آئیں۔ حامد میر نے کہا کہ عمران خان نے یہ اپنی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا جواء کھیلا ہے۔ عمران خان کے پاس واپسی کا راستہ نہیں ہے۔ حامد میر نے کہا کہ عمران خان نے صرف یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ استعفے کے بغیر اسلام آباد سے واپس جائیں گے بلکہ انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا ، جب تک وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے ،



















































