منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

لاڑکانہ میں ایڈز،بات معمولی نہیں،سندھ حکومت میں کھلبلی،بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2016 |

لاڑکانہ(این این آئی) چانڈکا اسپتال لاڑکانہ کے شعبہ نیفرولاجی میں ڈائلاسز کروانے والے 53 مریضوں میں ایچ آئی وی ہونے کی تصدیق کے بعد وزیراعلیٰ سندہ مراد علی شاہ کی جانب سے معاملے کا نوٹس لینے پر محکمہ صحت سے وابستہ اعلیٰ حکام لاڑکانہ پہنچ گئے ہیں۔ اس حوالے سے سیکریٹری سندھ بلڈ ٹرانسفیوزن اتھارٹی زاہد انصاری نے کہا ہے کہ چانڈکا اسپتال کے شعبہ نیفرولاجی میں گذشتہ دو برسوں سے کوئی نیفرالاجسٹ مقرر ہی نہیں جبکہ شعبے میں ڈائلاسز کرنے کے لئے میڈیکل کے کسی ضوابط و قوابت پر عمل نہیں کیا جارہا۔ ادھر مئنیجر سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام یونس چاچڑ کا کہنا ہے کہ مشینوں سے ڈائلاسز کروانے والے مریضوں کو ایچ آئی وی ہونے کے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے اور شعبہ نیفرولاجی میں موجود مشینوں کو دیکھنے کے لئے بائیو کیمیکل انجنیئرز کی ٹیم لاڑکانہ پہنچ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمشنر لاڑکانہ انعام اللہ دھاریجو کے زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جبکہ اجلاس میں طۂ کیا گیا کہ شعبہ نیفرولاجی میں ڈائلاسز کی مشینوں کے تعداد میں اضافہ کرکے ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کے لئے الگ مشینیں مخصوص کی جائینگی اور طبی ضوابط پر سختی سے عمل کرایا جائے گا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کا اہم ذریعہ غیر قانونی بلڈ بینکس اور لیبارٹریز ہیں جن کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ضلع بھر میں کوئی بھی وسیع پئمانے پر معیاری سرکاری لیبارٹری نہیں۔ اس قسم کی لیبارٹری بنانے کے لئے شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اور چانڈکا اسپتال حکام مشترکہ طور پر اقدامات اٹھائینگے۔ اجلاس میں ایم ایس چانڈکا اسپتال ڈاکٹر جاوید شیخ اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…