اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

’’بھارت کا ایک اور پاکستانی کبوتر گرفتار کرنے کا دعویٰ‘‘

datetime 3  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارت پولیس نے ریاست پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ سے اس کبوتر کو پکڑا ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کے پاس ایک خط موجود تھا جس پر وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرکے کچھ لکھا ہوا تھا۔پٹھان کوٹ کے پولیس انسپکٹر راکیش کمار نے بتایا کہ ’ہم نے کبوتر کو گزشتہ روز اپنی تحویل میں لیا‘۔انہوں نے بتایا کہ ’بھارتی سیکیورٹی فورس کو یہ کبوتر ملا جس کے پاس ایک پرچی تھی جس پر اردو میں لکھا تھا کہ؛ مودی ہم اب 1971 والے لوگ نہیں اب بچہ بچہ بھارت سے لڑنے کے لیے تیار ہے‘۔راکیش کمار نے بتایا کہ یہ پرچی بظاہر شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کی جانب سے بھیجی گئی ہے لہٰذا ہم اس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کررہے ہیں۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ہندوستان میں کسی پرندے کو شک کے بناء پر پکڑا گیا ہوا کئی دہائیوں سے کشیدگی کے دہانے پر کھڑی ان دو جوہری طاقتوں کی چپقلش کا نشانہ کئی پرندے بن چکے ہیں۔
تاہم مذکورہ کبوتر کو ایسے وقت میں پکڑا گیا ہے جب اڑی حملے کے بعد ہندوستان کی جانب سے مبینہ سرجیکل اسٹرائیکس اور پھر بارہ مولہ میں فوجی کیمپ پر حملے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہیں۔اس کے علاوہ یہ کبوتر پٹھان کوٹ میں ملا ہے جہاں رواں برس جنوری میں انڈین ایئربیس پر حملہ ہوا تھا۔علاوہ ازیں حال ہی میں بھارتی پنجاب میں اسی طرح کے پیغامات کے حامل دو غبارے بھی بھی ملے تھے جن میں اردو زبان میں مودی کے لیے کچھ لکھا ہوا تھا۔گزشتہ برس بھی انڈین پولیس نے ایک کبوتر کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں پکڑا تھا اور اس کا ایکسرے بھی کیا گیا تھا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کہیں اس میں کوئی خفیہ کیمرا، ٹرانسمیٹر یا چپ تو نصب نہیں۔2013 میں انڈین سیکیورٹی فورسز کو ایک مردہ باز ملاتھا جس پر ایک چھوٹا کیمرا نصب تھا اس کے علاوہ 2010 میں جاسوسی کے شبہے میں ایک اور کبوتر کو پکڑ لیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…